راہ ھدیٰ — Page 132
۱۳۲ نظم کے دو شعر درج کئے ہیں جو اخبار بدر قادیان ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء کے حوالہ سے لئے گئے ہیں ( صفحه ۲۷) یہ بھی وہ اشعار ہیں جو جماعت احمدیہ کے عقائد سے ہرگز تعلق نہیں رکھتے نہ ہی یہ شاعر جماعت کی طرف سے مجاز سمجھے جا سکتے ہیں کہ وہ جماعتی مسلک کو بیان کریں لیکن صرف یہی بات نہیں اگر اس طرح ہر کس و ناکس کے خیالات پر فرقوں اور قوموں کو پکڑا ہائے تو پھر تو دنیا میں کسی قوم اور فرقے کا امن قائم نہیں رہ سکتا۔اب غور سے سن لیں جناب مولوی صاحب ! اگر اکمل صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ شخص جو قادیان میں بروز محمد کے طور پر ظاہر ہوا وہ اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی شان میں بڑھ کر تھا جو مکہ میں پیدا ہوا تو ہرگز یہ عقیدہ نہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے نہ کوئی شریف النفس جو حضرت مرزا صاحب کی تحریرات سے واقف ہو اسے احمدیت کی طرف منسوب کر سکتا ہے۔حضرت مرزا صاحب تو زندگی بھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اس طرح بجز سے بچھے رہے جس طرح قدموں کے لئے راہ بچھی ہو حتی کہ آپ نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے کوچے کی خاک کے برابر قرار دیا ہے دیکھئے کس طرح والہانہ عشق کے ساتھ گویا ہیں جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است اب سنئے اکمل صاحب کے ان اشعار کی بات کہ واقعہ کیا ہوا تھا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا۔در حقیقت شاعر اپنی شعری دنیا میں بسا اوقات ایسی باتیں بیان کر جاتا ہے جو دراصل اس کے ماقی الضمیر کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتیں اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض اوقات شاعر کو خود اپنے شعروں کی وضاحت کرنی پڑتی ہے ان اشعار سے بھی جو غلط تاثر پیدا ہوتا ہے وہ غلط تاثر یقینا ہر احمدی کیلئے جس نے یہ پڑھا سخت تکلیف کا موجب بنا۔جب شاعر سے اس بارہ میں جواب طلبیاں ہوئیں اور مختلف احمدی قارئین نے ان اشعار کی طرز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو ان صاحب نے ان اشعار کا جو مضمون خود پیش کیا وہ حسب ذیل تھا۔مندرجہ بالا شعر دربار مصطفوی میں عقیدت کا مشعر ہے۔اور خدا جو علیم بذات الصدور ہے