راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 71 of 198

راہ ھدیٰ — Page 71

41 اللہ علیہ وسلم کا وارث ہوں اور اپنے سب سے حسین یار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگین ہوں۔اب بتائیے کہ جس مولوی صاحب نے پہلا شعر پڑھ لیا تھا۔اور اسے احباب کے سامنے پیش کیا ہے اس کو دو سرا شعر لکھتے ہوئے آخر کیا تکلیف تھی اور کیوں اس شعر کو قارئین سے چھپائے رکھا ؟ وجہ واضح ہے کہ ان کی تلیس کا بھانڈا پھوٹ جاتا اور لوگ جان لیتے کہ پہلے شعر میں جس زمرہ انبیاء کا ذکر ہے اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہیں بلکہ آپ ان سے بالا تر مقام پر فائز ہیں۔جو سید الانبیاء کا مقام ہے۔جہاں تک اس بحث کا تعلق ہے کہ حضرت مرزا صاحب کس رنگ میں علم و معرفت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا گذشتہ انبیاء میں سے کسی سے کم تر نہیں تھے تو یہ دعوئی منکرین مرزا صاحب کے لئے بے شک تکلیف کا باعث ہو لیکن ہرگز ایسا دعویٰ نہیں جیسے غیر اسلامی اور باطل قرار دیا جا سکے۔تمام دنیا پر یہ بات خوب روشن ہو چکی ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا اصل دعوئی یہی ہے کہ آپ وہی موعود امام مہدی ہیں جن کی بعثت کا وعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا۔پس آپ چونکہ یہ کامل یقین رکھتے تھے اس لئے لازم تھا کہ آپ کامل یقین کے ساتھ اپنا وہی مقام سمجھتے جو امام مہدی کا مرتبہ اور مقام ہے۔اس سلسلہ میں کبار علماء اور صالحین امت کی حسب ذیل تحریرات ہر منصف مزاج قاری کو مطمئن کرنے کے لئے کافی ہونگی۔چنانچہ لکھا ہے المهدى الذى يحبى فى اخر الزمان فانه يكون في الاحكام الشرعية تابعا لمحمد صلى الله عليه وسلم وفى المعارف والعلوم والحقيقة تكون جميع الانبياء والأولياء تابعين له كلهم ( شرح فصوص الحکم عبد الرزاق قاشانی صفحه ۵۳٬۵۲ مطبع مصطفی البابی الحلبی مصری ) کہ آخری زمانہ میں جو مہدی آئے گا وہ شرعی احکام میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو گا لیکن معارف علوم اور حقیقت کے لحاظ سے آپ کے سوا تمام انبیاء اور اولیاء اس کے تابع ہوں گے اور اس کی رتبہ وہ اگلے فقرے میں یوں بیان فرماتے ہیں لان باطنہ باطن محمد صلی اللہ علیہ و سلم کہ مہدی کا باطن حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا باطن ہو گا۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب امت محمدیہ میں آنے والے مسیح کی شان میں لکھتے ہیں :-