راہ ھدیٰ — Page 70
صرف اتنا معنی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اولیاء اور علماء کو جو روحانی مراتب عطا ہونگے ان میں مرزا صاحب کا مرتبہ اس وجہ سے سب سے بالا ہے کہ امت محمدیہ میں آپ کو الامام المہدی کا منصب عطا ہوا ہے اور یہ وہ منصب ہے جس کے متعلق گذشتہ بہت سے رفیع المرتبہ بزرگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امت محمدیہ میں مختلف روحانی درجے پانے والوں میں سے سب سے اونچا درجہ امام مہدی علیہ السلام کا ہو گا۔مذکورہ بالا الہام کے علاوہ حضرت مرزا صاحب کے بعض اشعار پیش کر کے بھی مولوی صاحب نے اپنے بہتان کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے۔مثلاً آپ کا یہ شعر انبیاء گرچہ بودہ نہ بے من بہ عرفاں نہ کم رم نہ کسے - 1 یہ شعر لکھ کر بڑے فخریہ انداز میں مولوی صاحب نے یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ نعوذ باللہ حضرت مرزا صاحب انبیاء میں سے کسی سے کم تر نہ ہونے کے دعوے دار ہیں اور آنحضرت بھی اسی زمرے میں شامل ہیں جن کی مرزا صاحب بات کر رہے ہیں۔ہم جو بار بار ان لدھیانوی صاحب کو دجل اور تلیس کا ماہر قرار دے رہے ہیں یہ کوئی نا واجب بات نہیں۔یہی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔کیونکہ اگلا شعر بالبداہت یہ بتا رہا ہے کہ حضرت مرزا صاحب جب کل انبیاء کی بات کرتے ہیں تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا ریب سب سے افضل قرار دیتے ہیں۔اور جہاں محمد رسول اللہ کے سوا دیگر انبیاء کی معرفت کی بات کرتے ہیں وہاں آپ کی امت میں پیدا ہونے والے امام مہدی کو معرفت میں کسی اور سے کم نہیں سمجھتے کیونکہ امام مہدی نے معرفت کے پیالے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوثر سے پئے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کو عرفان کا ایسا کوثر عطا نہیں کیا چنانچہ مولوی صاحب کے پیش کردہ شعر سے بالکل اگلا شعر یہ ہے۔وارث مصطفى شدم یقیں شده رنگیں برنگ یار حسین ( نزول المسیح صفحہ 19 طبع اول ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۷۷) کہ میں اگر دوسرے انبیاء سے شان میں کم تر نہیں ہوں تو وجہ یہ ہے کہ میں محمد مصطفیٰ صلی