راہ ھدیٰ — Page 15
(ضمیمه رساله جهاد صفحه ۶ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحه ۲۸) پ اپنے ایک شعر میں اسی مضمون کو یوں بیان فرماتے ہیں۔لیک آئینه ام ذرب فنی از پنے صورت مه مانی ( نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۷۸) کہ میں مدینہ کے چاند حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر دکھانے کیلئے خدا کی طرف سے آئینہ بن کر آیا ہوں۔نیز فرماتے ہیں: وارث مصطفی شدم به یقین شدم رو تکین به رنگ یار حسیں ( نزول مسیح روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحه ۴۷۷) کہ میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث بن کر آیا ہوں ( آپ کا امتی اور روحانی بیٹا ہونے کے سبب ) اور میں اپنے اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہو کر آیا ہوں۔نیز فرماتے ہیں: نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۱ طبع اول روحانی خزائن جلد عاصفحه (۲۹۳) جیسا کہ پانی یا آئینہ میں ایک شکل کا جو عکس پڑتا ہے اس عکس کو مجازا کھہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے ایسے شخص کو مٹیل، عکس ، ہم صفت ہونے کے سبب بروزی طور پر اصل کا نام دینے کا محاورہ امت میں ابتداء سے آج تک مستعمل ہے۔چنانچہ اسی محاورہ کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے بارے میں استعمال فرمایا ہے۔