راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 14 of 198

راہ ھدیٰ — Page 14

ہم نے جب تحقیق کی کہ آخر ایسا جاہلانہ خیال حضرت مرزا صاحب کی طرف انہوں نے منسوب کیسے کیا ہے تو دوران تحقیق یہ بات سامنے آئی کہ یہ مولوی صاحب کا قصور نہیں ہے بلکہ ان کے بزرگوں نے یہ کیڑا ان کے دماغ میں داخل کیا ہے۔چنانچہ دیوبندی فرقہ ، مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو چودھویں صدی کا مجدد تسلیم کرتا ہے ان کی وفات پر دیوبندی فرقہ کے ایک اور بزرگ شیخ الهند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی مرضیہ لکھتے ہوئے ان کے بارے میں کہتے ہیں زباں پر اہل اھواء کی ہے کیوں اہل قبل شاید اٹھا عالم کوئی بانی اسلام کا ثانی مرضیہ صفحہ ۶ - مطبع بلالی ساڈھورہ ضلع انبالہ ) ں نعر میں گنگوہی صاحب کو بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی کہا گیا ہے۔اور ثانی کا معنی ہے دوسرا دیکھا آپ نے مولوی لدھیانوی صاحب نے کہیں اور سے بات اٹھائی اور کہیں اور لگا دی۔معلوم ہوتا ہے تقویٰ اور دیانت کی طرح یادداشت بھی کمزور ہے۔اب ہم حضرت مرزا صاحب کی وہ تحریرات پیش کرتے ہیں۔جن سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ حضرت مرزا صاحب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر اپنا کیا م تمام و مرتبہ سمجھتے تھے۔ان تحریروں پر غور فرما لیجئے۔اگر پھر بھی مولوی صاحب بہتان طرازی سے باز نہ آئے تو خدا کے سامنے جواب دہ ہونگے۔اور یاد رکھیں کہ موت کے بعد توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔دضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں :- خدا تعالی کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں اقبوں کا مجھے وارث بنا دیا۔اور یہ دونوں اقتب میرے وجود میں اکٹھے کر دیئے۔سو میں ان معنوں کے رو سے عیسی مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی۔اور یہ 11 طریق ظہیر ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔سو مجھے رو بروز عطا ہوئے ہیں۔بروز عیسی اور بروز محمد۔"