راہ ھدیٰ — Page 185
۱۸۵ کرے گا کہ بعینہ یہی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جیسا کہ ہم بارہا ان مولوی صاحب کی علمی اور دینی حالت پر سخت افسوس کا اظہار کر چکے ہیں اسی طرح اس اعتراض پر بھی ہم حیران ہیں کہ ایک عالم دین ہونے کا دعویدار ایسی جاہلانہ باتیں کر کیسے سکتا ہے۔کیا ان صاحب نے کبھی قرآن کریم کا مطالعہ نہیں کیا یا دل پر تالے پڑے ہیں۔افسوس که لدھیانوی صاحب نے حضرت یوسف علیہ السلام کی تاریخ سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے نام کی بھی حیا نہ کی۔حضرت یوسف علیہ السلام کی بلوغت اور نبوت کا بیشتر حصہ فرعون مصر کے تابع صرف ہوا۔اور آپ نے اس ملک میں بیشتر زندگی گذاری جہاں فراعنہ مصر کا جابرانہ قانون لاگو تھا اور کسی کو اس قانون سے انحراف کی مجال نہ تھی۔پس جس حالت پر یہ مولوی صاحب غلامی کا طعن کرتے ہیں اور بعض ان میں سے اقبال کا ایک شعر بھی بڑے جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں جس میں غلام نبی کے تصور سے پناہ مانگی گئی ہے۔کیا ان کی قرآن پر ذرا بھی نظر نہیں اور انہیں پتہ نہیں کہ ان کے طعن و تمسخر کی تان کہاں کہاں جا کر ٹوٹے گی۔حضرت یوسف علیہ السلام کی بے اختیاری کا ذکر تو قرآن کریم نے ایسے کھلے کھلے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ کسی کے لئے تاویل کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔فرماتا ہے کہ اگر ہم یوسف کے بھائی کے یوسف کے پاس ٹھہرنے کی تدبیر اپنی طرف سے نہ کرتے تو بادشاہ کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یوسف علیہ السّلام میں طاقت نہ تھی کہ اپنے بھائی کو روک سکتے۔کیا فرماتے ہیں لدھیانوی صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوت کس نوع اور کس مزاج کی تھی۔اسی طرح کیا انہوں ہے فرعون مصر کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ رویہ نہیں دیکھا کہ کس قدر تحکم آمیز اور تحقیر کا رویہ تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو یہی حکم فرمایا۔فقو لاله قَولاً لينا ( طه آیت نمبر ۴۵) کہ خبردار فرعون سے نہایت نرمی سے کلام کرنا کیا جناب لدھیانوی صاحب کی لغت میں اس نرم کلام کا نام چاپلوسی ہے؟ مزید برآں کیا لدھیانوی صاحب حضرت عیسی بن مریم کے حالات سے بے خبر ہیں وہ ایسی قوم میں پیدا ہوئے جو کلیتہ سلطنت روم کی -