راہ ھدیٰ — Page 184
۱۸۴ ان مولوی صاحب کی جتنی جتنی تحریرات پڑھنے کا موقع ملتا ہے اتنا ہی ذہن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کی طرف منتقل ہوتا چلا جا رہا ہے۔عُلَمَهُ هُمْ فَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ ( مشکوۃ کتاب العلم) الشمله۔کہ ایک بد نصیب زمانہ آنے والا ہے کہ ان لوگوں کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔فی زمانہ اگرچہ بہت ہی تنزّل ہوا ہے لیکن کوئی مسلمان غالبا یہ گمان نہیں کرے گا کہ سارے کے سارے علماء کلیتہ بد ترین مخلوق ہو چکے ہوں گے۔لیکن کوئی مسلمان یہ بھی گمان نہیں کر سکتا کہ اس حدیث کا اطلاق مسلمانوں کے کسی گروہ پر بھی نہ ہو کیونکہ مخبر صادق کی باتیں کبھی بھی جھوٹی نہیں ہو سکتیں۔لدھیانوی صاحب نے ملکہ وکٹوریہ کے نام حضرت مرزا صاحب کی کتاب ستارہ قیصریہ سے دو اقتباس درج کئے ہیں جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ آپ اس کی مملکت کے شہری ہونے کے سبب اسکی حکومت کے اطاعت گزار ہیں اور نیز یہ ذکر ہے کہ آپ نے اس کے نام تحفہ قیصریہ کے نام سے جو تبلیغی خط لکھا تھا جس میں اسے مسیح کی خدائی چھوڑ کر خدا کی توحید قبول کرنے اور عیسائیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے کی تلقین کی گئی تھی ملکہ نے اس خط کے پہنچنے کی آپ کو اطلاع نہیں دی جس پر آپ نے ستارہ قیصریہ کے نام سے اسے ایک اور تبلیغی خط لکھا۔لدھیانوی صاحب ان تبلیغی خطوط کو طول طویل لیکن بے معنی اور بے مصرف خطوط قرار دیتے ہیں۔اور ان تبلیغی خطوط میں جن الفاظ سے ملکہ کو مخاطب کیا گیا ہے اسے چاپلوسی اور خوشامد کا نام دیتے ہیں۔ان لغو اور بے اصل اعتراضات سے قارئین پر وہ یہ تاثرات قائم کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے انگریز ملکہ کی ایسی چاپلوسی کی کہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ان کے حمایتی تھے اور مزید اس سے یہ بھی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عیسائی مملکت کی فرمانروا کی تعریف کرنے والا شخص اور اس کی اطاعت میں پیدا ہونے والا جو ایک غلام ملک میں پیدا ہوا ہو اور اسکی زندگی ایک غیر قوم کی غلامی میں ہی صرف ہوئی ہو وہ کیسے نبی اللہ ہو سکتا ہے اور کس طرح ہم اس کے متعلق یہ تصور کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مسیح موعود بنا کر دنیا میں بھیجا ہو۔یہ الفاظ ہمارے ہیں مگر ہر شخص جو ان کی تمسخر آمیز کھو کھلی عبارت کا مطالعہ کرے وہ اس سے اتفاق