راہ ھدیٰ — Page 182
سوائے دو رشتہ داروں کے باقی سب دور و نزدیک کے لوگوں نے آپ سے علیحدگی اختیار کرلی" اسی طرح لکھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حق تعالٰی نے انواع و اقسام کی مصیبتیں ان (حضرت ایوب علیہ السلام) پر مقدر فرما ئیں۔تو بلا ئیں ان پر ٹوٹ پڑیں غرضیکہ ان کے اونٹ بجلی گرنے سے ہلاک ہوئے اور بکریاں بہیا آنے سے ڈو میں۔اور کھیتی کو آندھی نے پراگندہ کر دیا اور سات بیٹے تین بیٹیاں دیوار کے نیچے دب کر مرگئے اور ان کے جسم مبارک پر زخم پڑ گئے۔اور متعفن ہوئے اور ان میں کیڑے پڑ گئے جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے سب مرتد ہو گئے جس گاؤں اور جس مقام میں حضرت ایوب علیہ السلام جاتے وہاں سے وہ مرتد لوگ انہیں نکال دیتے۔ان کی بی بی رحیمہ نام۔۔۔۔حضرت ایوب علیہ السلام کی خدمت میں رہیں۔سات برس۔سات مہینے۔سات دن۔سات ساعت حضرت ایوب علیہ السلام اس بلا میں مبتلا رہے۔اور بعضوں نے تیرہ (۱۳) یا اٹھارہ (۱۸) برس بھی کہے ہیں۔۔۔۔عشرات حمیدی میں لکھا ہے۔کہ جو لوگ حضرت ایوب علیہ السلام پر ایمان لائے تھے ان میں سے بعض نے کہا کہ اگر ان میں کچھ بھی بھلائی ہوتی تو اس بلا میں جتلا نہ ہوتے اس سخت کلام نے ان کے دلِ مبارک کو زخمی کر دیا اور انہوں نے جناب الہی میں انّي مَسَّنِيَ الضُّر عرض کیا۔یا اس قدر ضعیف و ناتواں ہو گئے تھے کہ فرض نماز اور عرض و نیاز کے واسطے کھڑے نہ ہو سکتے تھے تو یہ بات ان کی زبان پر آئی۔یا کیڑوں نے دل و زبان میں نقصان پہنچانے کا اراداہ کیا یہ دونوں عضو توحید اور تمجید کے محل ہیں ان کے ضائع ہونے سے ڈر کر یہ کلمہ زبان پر لائے۔یا ان کی بی بی تمام تهیدستی اور بے چارگی کی وجہ سے اپنے گیسو پیچ کر ان کے واسطے کھانا لا ئیں۔ایوب علیہ السلام نے اس حال سے مطلع ہو کر آتی مَسَّنِيَ الضُّر کی آواز نکالی۔اور بعضوں نے کہا ہے ان کے جسم مبارک میں جو کیڑے پڑتے تھے۔ان میں سے ایک کیڑا زمین پر گرا اور جلتی ہوئی خاک میں تڑپنے لگا تو حضرت ایوب علیہ السلام نے اسے اٹھا کر پھر اسی جگہ پر رکھ دیا چونکہ یہ کام اختیار سے واقع ہوا۔تو اس نے ایسا کاٹا کہ ایوب علیہ السلام تاب نہ لا سکے اور یہ کلمہ ان کی زبان پر جاری ہوا۔( تفسیر حسینی مترجم اردو الموسومه به تغییر قادری مطبع نول کشور لکھنو جلد نمبر ۲ صفحه ۶۴ زیر آیت