راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 183 of 198

راہ ھدیٰ — Page 183

١٨٣ اني مسني الضر وانت ارحم الراحمين (انبياء رکوع نمبر ۶) عقیدہ نمبرے اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں ” ہندوؤں کے نزدیک انسان کی جزا و سزا کے لئے یہی صورت قدرت کی جانب سے مقرر ہے کہ اسے نیک و بد اعمال کے مطابق کسی اچھے یا برے قالب میں منتقل کر کے پھر دنیا میں بھیج دیا جائے جس کو وہ نیا جنم اور نئی جون کہتے ہیں مرزا صاحب کو دعوی ہے کہ محمد رسول اللہ کو دوبارہ مرزا غلام احمد قادیانی کے قالب میں بھیجا گیا ہے اب سوال یہ ہے کہ (ہندوؤں کے عقیدہ تاریخ اور مرزا صاحب کے عقیدہ بروز کے مطابق ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نعوذ باللہ پہلی جون میں کونسا پاپ ہوا تھا کہ انہیں دوبارہ غلام احمد قادیانی کی ناقص شکل میں بھیج دیا گیا۔" (صفحہ ۴۳) معزز قارئین! آپ دیکھ لیں کہ کیسی کیسی بکواس اس مولوی کی زبان سے نکلتی ہے۔ذرا بھی ادب نہیں کیسی کیسی بکو اس محمد رسول اللہ اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کر رہا ہے۔نہ جانے اس کے سر پر کس بھوت کا سایہ ہے۔کہ اناپ شناپ جو منہ میں آئے اگلتا چلا جا رہا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ محض اور محض لغو اور کمینے حملوں کے سوا اس کا کوئی مشغلہ نہیں اور خوب جانتا ہے کہ جو بات کہہ رہا ہے وہ سراسر حقیقت کے خلاف ہے ( ورنہ فصل اول میں مندرج اقوال علمائے سلف و اولیائے امت پر بھی بہی اعتراض دارد ہو گا ) کوئی مرزا صاحب کی تحریرات کا ماہر ہونے کا دعویدار ہو اور اس کو یہ بھی علم نہ ہو کہ ہندوؤں کے عقیدہ تاریخ کے خلاف جیسے جیسے مضبوط اور قومی اور عمیق دلائل حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتاب براہین احمدیہ اور دیگر بہت سی کتب میں دیتے ہیں ان کا عشر عشیر بھی اس دور کے تمام علماء نے مل کر پیش نہیں کیا ایسے شخص کے متعلق جانتے بوجھتے ہوئے محض افتراء کی خاطر پہلے یہ عقیدہ گیڑا کہ وہ نبیوں کی طرح کے تاریخ کا قائل تھا اور پھر اس خبیشان انترا میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور اتارنے کو حد سے بڑھی ہوئی بد بختی اور بے باکی کے سوا کیا قرار دیا جا سکتا ہے نہیں تو