راہ ھدیٰ — Page 181
IN کے عوارض کی تفصیل کو چھوڑتے ہوئے صرف حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر آنجناب کی خدمت میں بطور یادہانی ضرور پیش کریں گے اور آپ ہی کے مانے ہوئے مفسرین قرآن کی زبان میں ذکر کریں گے تاکہ آپ کو خوب اچھی طرح محسوس ہو جائے کہ انبیاء کرام کے جسمانی عوارض پر تمسخر اور ٹھٹھا کرنا کس طرح قابل سرزنش بات ہے اور بیسفلہ مزاج انسانوں کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتی۔دیکھئے حضرت ایوب علیہ السلام کے بارہ میں تفسیر کبیر امام رازی سورۃ انبياء ع ۶ زیر آیت وَأَيَوبَ إِذْ نَادَى رَبَّدَ أَنِي مَسَّنِيَ الضُّرُ میں لکھا ہے "دشمن خدا ( ابلیس ) لپک کر حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچا دیکھا تو حضرت ایوب علیہ السلام سجدے میں گرے ہوئے تھے۔پس شیطان نے زمین کی طرف سے ان کی ناک میں پھونک ماری جس سے آپ کے جسم پر سر سے پاؤں تک زخم ہو گئے اور ان میں ناقابل برداشت کھلی شروع ہو گئی حضرت ایوب علیہ السلام ناخنوں سے کھجلاتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ناخن جھڑ گئے جس کے بعد کھردرے کمبل سے کھیلاتے رہے پھر مٹی کے ٹھیکوں اور پتھروں وغیرہ سے کھجلاتے رہے یہاں تک کہ ان کے جسم کا گوشت علیحدہ ہو گیا اور اس میں بدیو پڑ گئی پس گاؤں والوں نے آپ کو باہر نکال کر ایک روڑی پر ڈال دیا اور ایک چھوٹا سا عریش ان کو بنا دیا۔آپ کی بیوی کے سوا باقی سب لوگوں نے آپ سے علیحدگی اختیار کرلی۔۔۔۔۔حضرت ایوب علیہ السلام نے درگاہ خداوندی میں نہایت تقریع سے یہ دعا کی کہ اے میرے رب مجھے تو نے کس لئے پیدا کیا تھا ؟ اے کاش! میں حیض کا چیتھڑا ہوتا کہ میری ماں اسے باہر پھینک دیتی اے کاش ! مجھے اس گناہ کا علم ہو سکتا جو مجھ سے سرزد ہوا اور اس عمل کا پتہ لگ سکتا جس کی پاداش میں تو نے اپنی توجہ مجھ سے ہٹالی - الہی میں ایک ذلیل انسان ہوں اگر تو مجھ پر مہربانی فرمائے تو یہ تیرا احسان ہے۔اور اگر تکلیف دینا چاہئے تو تو میری سزا دہی پر قادر ہے۔۔۔۔الہی میری انگلیاں جھڑ گئی ہیں۔اور میرے حلق کا کوا بھی گر چکا ہے۔میرے سب بال جھڑ گئے ہیں۔میرا مال بھی ضائع ہو چکا ہے اور میرا یہ حال ہو گیا ہے کہ میں لقمے کے لئے سوال کرتا ہوں تو کوئی مہربان مجھے کھلا دیتا ہے اور میری غربت اور میری اولاد کی ہلاکت پر مجھے طعنہ دیتا ہے۔۔۔۔ابن شہاب حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ایوب علیہ السلام اس مصیبت میں اٹھارہ سال تک مبتلا رہے۔یہاں تک کہ۔