راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 162 of 198

راہ ھدیٰ — Page 162

Mr " حضرت مجدد الف ثانی کو ہمیشہ کعبہ شریفہ کی زیارت کا شوق رہتا تھا۔۔۔۔۔کیا مشاہدہ فرماتے ہیں کہ تمام عالم انسان ، فرشتے ، جن سب کی سب مخلوق نماز میں مشغول ہے اور سجدہ آپ کی طرف کر رہے ہیں۔حضرت اس کیفیت کو دیکھ کر متوجہ ہوئے۔توجہ میں ظاہر ہوا کعبہ معظمہ آپ کی ملاقات کے لئے آیا ہے اور آپ کے وجود باجود کو گھیرے ہوئے ہے۔اس لئے نماز پڑھنے والوں کا سجدہ آپ کی طرف ہوتا ہے۔اسی اثناء میں الہام ہوا کہ " تم ہمیشہ کعبہ کے مشتاق تھے ہم نے کعبہ کو تمہاری زیارت کے لئے بھیج دیا ہے اور تمہاری خانقاہ کی زمین کو بھی کعبہ کا رتبہ دے دیا ہے۔جو نور کعبہ میں تھا اسی نور کو اس جگہ امانت کر دیا ہے۔اس کے بعد کعبہ شریف نے خانقاہ مبارک میں حلول کیا اور دونوں کی زمین باہم مل جل گئی۔اس زمین کو بیت اللہ کی زمین میں فناء اور بقاء اتم حاصل ہوا۔" صدیقه محمودیه ترجمه روضه قیومیه صفحه ۶۸ از حضرت ابوالفیض کمال الدین سرہندی مطبع بلید پریس فرید کوٹ پنجاب ) اب فرمائے لدھیانوی صاحب ! اس عبارت پر کیا کیا عنوانات سجائیں گے اور کیا کیا پھبتیاں کیں گے ؟ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ کی بابت لکھا ہے۔” ایک روز حضرت قبلہ نے حلقہ نشین علماء کے سامنے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے دونوں پاؤں کے نیچے مصحف حمید یعنی قرآن مجید ہے۔اور میں اس کے اوپر کھڑا ہوا ہوں۔اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔سارے علماء اس خواب کی تعبیر بیان کرنے سے عاجز آگئے۔پس آپ نے مولوی محمد عابد سوکڑی علیہ الرحمتہ کو جو کہ بڑے متبحر اور متدین عالم تھے طلب کیا اور ان کے سامنے خواب بیان کیا مولوی صاحب آداب بجا لائے اور کہا کہ مبارک ہو کیونکہ قرآن شریف عین شریعت ہے اور جناب والا کے دونوں قدم ہر زمانہ میں جادہ شریعت پر مستحکم رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔چنانچہ یہ عمدہ تعبیر ہر کسی کے فکر و عقل کے مطابق تھی۔لہذا سب کو پسند آئی۔" ( تذکرہ خواجہ سلیمان تونسوی - اردو ترجمہ نافع السا لکین ۱۵۶۱۵۷ از صاحبزاده محمد حسین الهی ناشر شعاع ادب مسلم مسجد چوک انار کلی لاہور مطبع اشرف پریس لاہور) ہاں ہاں یہ عمدہ تعبیر ہر کسی کے فکر و عقل کے مطابق تھی سوائے جناب لدھیانوی