راہ ھدیٰ — Page 163
صاحب کی عقل و فکر کے۔لدھیانوی صاحب کے پیرو مرشد مولوی اشرف علی صاحب تھانوی لکھتے ہیں ایک ذاکر صالح کو کمشوف ہوا کہ احقر اشرف علی تھانوی کے گھر حضرت عائشہ آنے والی ہیں۔انہوں نے مجھ سے کہا تو میرا ذہن معا اس طرف منتقل ہوا کہ کم سن عورت ہاتھ آنے والی ہے۔" (رساله الامداد ماه صفر ۱۳۳۵ ) یہ قصہ تو ہماری سمجھ میں بھی نہیں آیا۔تعجب ہے ! خواب دیکھنا تو بے اختیاری اور بے بسی کی بات ہے لیکن تعبیر کرنا تو انسان کی اپنی عقل اور سمجھ کے دائرہ قدرت میں ہوتا ہے۔یں لدھیانوی صاحب کے پیر طریقت کی یہ تعبیر ہماری عقل اور ہماری سمجھ سے بالا ہے لیکن یہ یقین رکھتے ہیں کہ لدھیانوی صاحب کی سمجھ اور عقل کے عین مطابق ہوگی۔اور آخر میں مولوی صاحب سے یہ درخواست ہے کہ اگر انہیں دسترس ہو تو سلسلہ قادریہ مجددیہ کے مشہور بزرگ ، پیر طریقت ، ہادی شریعت حضرت شاہ محمد آفاق رحمتہ اللہ علیہ متوفی مئی ۱۸۳۵ء کے اس کشف کو پڑھ لیں جو انہوں نے اپنے ایک مرید فضل الرحمان گنج مراد آبادی کو بتایا جو کتاب "ارشاد رحمانی و فضل یزدانی " کے صفحہ ۵۸ میں مذکور ہے اور اس کشف کی تعبیر و تشریح بھی پڑھنی نہ بھولیں جو اسی کتاب میں مذکور ہے۔ان چند مثالوں سے ہر قاری پر واضح ہو گیا ہو گا کہ کشوف ہمیشہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اگر ان کی عقل و سمجھ کے مطابق مناسب تعبیر نہ کی جائے تو نتائج انتہائی بھیانک ہو جاتے ہیں اس کے بعد ہم پھر لدھیانوی صاحب کے اس افتراء کی طرف لوٹتے ہیں جو انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے مذکورہ بالا کشف کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔جس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے اس کشف میں جو فقرہ الہام ہوا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ قرآن قادیان کے قریب ہی اترا ہے۔یہ مضمون حضرت مرزا صاحب نے کسی جگہ پر بھی بیان نہیں کیا بلکہ ہر جگہ یہی بیان کیا ہے کہ قادیان کے قریب جو کچھ نازل ہوا ہے وہ مسیح موعود اور اس پر نازل ہونے والے آسمانی نشانات ہیں۔چنانچہ تذکرہ جہاں سے لدھیانوی صاحب نے یہ کشف لیا ہے وہیں پر براہین احمدیہ کا یہ حوالہ لکھا ہے