راہ ھدیٰ — Page 150
۱۵۰ کہ اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا کرو جب وہ تمہیں پکارے کیونکہ وہ تمہیں زندہ کرتا ہے اور زندہ کرے گا۔تو تم یہاں احیاء کے معنی جسمانی نہیں بلکہ روحانی کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہو اسی طرح تمہارے انصاف اور تقویٰ کا یہ حال ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق حدیثوں میں نزول کا لفظ لکھا ہوا دیکھتے ہو تو شور مچا دیتے ہو کہ دیکھو مسیح کا جسم سمیت آسمان سے اترنا ثابت ہو گیا اور جب یہی لفظ قرآن کریم کی حسب ذیل آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال ہوتا دیکھتے ہو کہ انزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُم تو كَرًا رَسُولاً ( طلاق آیت 1 ) تو یہاں لفظ نزول کی تاویل کرتے ہو اور کہتے ہو کہ جسم سمیت آنحضرت کا اترنا مراد نہیں۔پس یہ تمہاری ظاہر پرستیاں اور نا انصافیاں ہی ہیں کہ جن ہتھیاروں سے لیس ہو کر خدا تعالی کے ایک پاک بندے حضرت مرزا صاحب پر حملہ آور ہو رہے ہو۔لیکن ظلم اور فتنہ گری کی حد ہے کہ جس شخص نے عمر بھر تم سے امبینت و الوحیت مسیح کے خلاف روحانی جنگیں لڑیں اور یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ مسیح کے متعلق مردوں کو زندہ کرنے کا اور مٹی سے پرندے بنانے کا ذکر ظاہر معنوں میں ہے اور تمہیں متنبہ کیا کہ اس طرح مسیح کو خدا تعالٰی کی ذات کے ساتھ کن ٹینگون میں شریک ماننا پڑے گا۔اب تم اسی پاک موحد وجود پر صفت کن سینگون میں شریک ہونے کا الزام دھر رہے ہو۔یہ دجل اور فریب کاری کی انتہا ہے۔عقیدہ نمبر ۱۹ اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے دس الہامات بطور اعتراض پیش کئے ہیں۔مولوی صاحب نے عقیدہ نمبر 19 کے تحت جو دس الہامات درج فرمائے ہیں اس فعل سے قاری کو ان کی ٹیڑھی طرز فکر پر خوب اطلاع ہو گئی ہے۔اس سے پہلے ہم متوجہ کر چکے ہیں کہ مولوی صاحب نے نمبر بنانے کے لئے بعض اعتراضات کو جو ایک ہی نوعیت سے تعلق رکھتے تھے۔زائد نمبر دے کر بیان کیا ہے اب مولوی صاحب کے لئے مسئلہ یہ در پیش ہے کہ 19 نمبر ہو چکے ہیں اور مولوی صاحب اس نیت سے کہ قرآن کریم کی آیت علمها تسعة عشر کو عیاذاً باللہ مرزا صاحب پر چسپاں کریں ۱۹ کے نمبر سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے۔اس لئے 19 کے عدد پر پہنچ کر ایک نہیں دس مختلف الہامات مختلف اعتراضات کی خاطر