راہ ھدیٰ — Page 149
۱۴۹ كُن فَيَكُونُ - یعنی تمام زمین و آسمان اس کی اطاعت کر رہے ہیں جب ایک کام کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو فی الفور وہ کام ہو جاتا ہے" اب مولوی صاحب کے اعتراض کو دیکھئے ! (کشتی نوح صفحه ۳۵ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸) افتراء کی ایسی خبیثانہ مثال اگر کسی اور کے علم میں ہو تو دکھائے امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا تو مولوی صاحب کے ہم خیال لوگوں کے ساتھ عمر بھر یہی بحث مباحثہ رہا کہ تم مسلمان علماء ہو کر کیوں خدا کا خوف نہیں کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو گڑھے مردوں کا زندہ کرنے کا اعجاز نہیں مانتے اور یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی گوندھ کر پرندے بنائے اور پھونک مار کر انہیں زندہ کر کے اڑا دیا ہو لیکن حضرت عیسی کیلئے یہ مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ گویا خدا تعالیٰ کی کن فیکون کی تنزیہی صفات میں شریک تھے۔اس کو ثابت کرنے کے لئے جب تم قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہو تو یہ مرزا صاحب ہی ہیں جو تمہیں متوجہ کرتے ہیں کہ انبیاء کے بارہ میں ایسا کلام روحانی معنی رکھتا ہے اس کا ظاہر پر اطلاق نہیں ہوتا وہ روحانی مریض ہی تھے جنہیں مسیح اچھا کیا کرتے تھے۔وہ روحانی پرندے ہی تھے جو مسیح نے بنائے اور انہیں پر پرواز عطا کئے اور وہ روحانی مردے ہی تھے جنہیں مسیح علیہ السلام زندہ کیا کرتے تھے یہ تولدھیانوی صاحب جیسے مولوی ہیں جو پلٹ کر کہتے ہیں کہ تم تو قرآن کریم کی تاویلیں کرتے ہو اور ہم یقیناً ظاہری معنے ہی لیتے ہیں اور ظاہری معنوں کا اطلاق ہی مسیح پر کرنے کو حق سمجھیں گے۔یہ حضرت مرزا صاحب ہی تھے جنہوں نے لمبا عرصہ لدھیانوی صاحب جیسے علماء کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ تمہاری ٹیڑھی سوچیں ہی ہیں جو الومیت مسیح کے عقیدہ کو سہارا دے رہی ہیں اور اس کی امنیت کے باطلانہ خیال کو سچ بنا کر دکھا رہی ہیں۔تم لوگ ہرگز انصاف سے کام نہیں لیتے کہ جب حضرت مسیح" کے متعلق یہ لکھا ہوا دیکھتے ہو کہ وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے تو یہ یقین کر لیتے ہو کہ وہ سالہا سال کے گڑھے ہوئے جسمانی مردے ہیں جن کا قرآن کریم ذکر فرما رہا ہے لیکن جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اسی قرآن میں لکھا پاتے ہو کہ اسْتَجبُو اللَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحَيْكُمْ (انفال آیت نمبر ۲۵)