راہ عمل — Page 67
YA صاف اور سیدھی ہو جائیں اور وہ تیرے نام کو قبول کرنے لگیں اس کے ساتھ یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالٰی نئے آنے والوں کو حوصلہ دے اور ان کو طاقت بخشے کہ وہ مخالفتیں برداشت کر کے بھی حق کو قبول کریں۔(اللہ تعالی ) ان کو برکتیں عطا کرے ان سے پیار کا سلوک فرمائے تاکہ وہ دوسروں کے لئے نیک نمونہ بنیں۔اللہ ایک نعمت ہے ) خطبه جمعه ۳ مارچ ۶۱۹۸۳ ) دنیا کو مذہبی لحاظ سے آپ دو ہی حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک وہ جو خدا کے قائل ہیں دوسرے وہ جو خدا کے قائل نہیں۔جو لوگ خدا کے قائل ہیں اگر ان کو کہا جائے کہ ہم تمہیں خدا کہ طرف بلاتے ہیں تو اس میں غصہ کی کونسی بات ہے نفرت کا کوئی مقام ہی نہیں ہے اور وہ جو خدا کے قائل نہیں ہیں اگر خدا کی طرف بلائے بغیر ان کو کسی مذہب کی طرف بلایا جائے تو نہایت ہی لفو فعل ہو گا اور ساری بحثیں بے معنی اور بے حقیقت۔اس لیئے جو دہریہ ہو اس سے لاننا بات بھی خدا کی ہستی سے شروع کرنی ہے۔پس دونوں پہلوؤں سے نہایت ہی پر حکمت کلام ہے۔فرمایا ادع الی سبیل و یک اپنے رب کی طرف بلاؤ۔دوسری جگہ فرمایا۔اللہ کی طرف بلاؤ۔مذہبی قسمیں بعد میں آئیں گی تو پھر اس کے متعلق اللہ تعالی روشنی ڈالے گا کہ کس طرح اس معاملہ میں گفتگو کرنی ہے۔- 1 اللہ ایک نعمت ہے نعمت کی طرف بلانے کے نتیجہ میں لوگوں کو غصہ تو نہیں آیا کرتا ہاں نعمت کو انسان اپنی ذات میں سمیٹ کو بیٹھ جائے اور اس پر قبضہ کرے اور یہ کہہ دے کہ یہ نعمت کسی اور کے لیے نہیں ہے صرف میرے اور میرے عزیزوں کے لیے ہے تو پھر لازما فساد پیدا ہوتا ہے لیکن یہاں تو دعوئی کا آغاز یہ کہہ کر کیا گیا ہے کہ دنیا کو اس نعمت کی طرف بلاؤ اور کہو کہ یہ صرف ہماری ہی نہیں تمہاری بھی ہے یہ تمہارے اور ہمارے اور درمیان مشترک ہے ہم اکیلے اس کے حقدار نہیں ہیں تم بھی آؤ اور اس میں شریک ہو