راہ عمل — Page 68
جاؤ اس اعلان کے بعد پھر فساد کیوں؟ داعی الی اللہ کے لئے رب کو پانا ضروری ہے :۔دوسرے اگر خدا کی طرف بلاتا ہے تو اس طبیعی جذبہ سے مجبور ہو کر بلاؤ کہ گویا تم نے اسے پالیا ہے اور خدا کو پانے کے بعد خدا کی طرف جو بلاتا ہے۔اس سے آواز میں ایک اور ہی شان پیدا ہو جاتی ہے غرض خدا کی طرف بلانے والی آواز اور ہوتی ہے۔اور خدا کو پالینے کے بعد جو بلانے والی آواز ہوتی ہے وہ اور ہوتی ہے۔۔۔۔پیس اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو پائے بغیر اس کی طرف کسی کو نہیں بلانا چاہیے ورنہ تمہاری آواز جھوٹی اور کھوکھلی ہو جائے گی۔اس میں طاقت نہیں رہے گی۔پانے والی اور نہ پانے والی آواز میں بڑا فرق ہے۔پس جس نے بھی داعی الی اللہ بنا ہے اس کے لیے یہ تو لازم ہو جائے گا کہ پہلے خود وہ رب کو پائے اس سے ذاتی تعلق قائم کرے نہ صرف جماعتی تعلق اس بات میں حکمتوں کا ایک خزانہ مخفی ہے کہ اس کی طرف بلاؤ اور اسے پانے کے بعد بلاؤ اس کا ثبوت کیا دیا فرمایا عمل صالحا۔۔۔اگر خدا کو تم نے پایا ہے تو اس کا حسن تم میں بھی تو پیدا ہونا چاہیئے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پالیا ہو اور اس طرح بد صورت اور بد زیب بے حقیقت اور کریمہ النظر انسان بنے رہو۔۔۔غرض یہ اس بات کا طبیعی نتیجہ ہے۔یہ بات میں آپ پر کھولنا چاہتا ہوں کیونکہ خدا تعالی کی طرف بلانے والے لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں ہوں گے جن کے اعمال گندے ہیں جن کا کردار گواہی دیتا ہے کہ انہوں نے اس ذات سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جس کی طرف بلا رہے ہیں تو عمل صالح کی شرط سے وہ کیوں محروم ہیں اس لیے کہ وہ ایک خیالی خدا کی طرف بلا رہے ہیں انہوں نے پایا کچھ نہیں اگر پالیا ہوتا تو خدا تعالیٰ ان کی ذات میں ظاہر ہو جاتا۔ان کی ذات میں نظر آنے لگتا۔خدا تعالٰی کو پانے والوں کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرتے ہیں خ سرسے لے کر پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں یہ امر واقع ہے کہ خدا تعالی کی راہ میں تقویٰ سے لیس ہو کر ، عمل صالح سے مزین ہونے کے بعد جن لوگوں نے جہاد شروع کیا وہ علم میں بھی پیچھے نہیں رہے بلکہ خدا تعالی