راہ عمل — Page 7
با ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے۔پس جادلهم بالتی ھی احسن (النحل : ۱۲۶) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے ہوتى الحكمة من يشك (البقره: (۲۷۰) مگر یاد رکھو جیسی یہ باتیں حرام ہیں ویسے ہی نفاق بھی حرام ہے۔اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ کہیں پیرایہ ایسا نہ ہو جاوے کہ اس کا رنگ نفاق سے مشابہ ہو۔موقعہ کے موافق ایسی کاروائی کرو جس سے اصلاح ہوتی ہو۔تمہاری نرمی ایسی نہ ہو کہ نفاق بن جاوے اور تمہارا غضب ایسا نہ ہو کہ بارود کی طرح جب آگ لگے تو ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔بعض لوگ تو غصہ سے سودائی ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی سر میں پتھر مار لیتے ہیں۔اگر ہمیں کوئی گالی دیتا ہے تب بھی صبر کرو میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی کے پیرو مرشد کو گالیاں دی جاویں یا اس کے رسول کو ہتک آمیز کلمے کے جاویں تو کیسا جوش ہوتا ہے مگر تم صبر کرو اور علم سے کلام کرد" وو بر اعلیٰ درجہ کا منصب واعظ کا منصب ایک اعلیٰ درجہ کا منصب ہے۔اور وہ گویا شان نبوت اپنے اندر رکھتا ہے۔بشرطیکہ خدا تری کو کام میں لایا جاوے۔" }} وعظ کہنے والا اپنے اندر خاص قسم کی اصلاح کا موقعہ پالیتا ہے کیونکہ لوگوں کے سامنے یہ ضروری ہوتا ہے کہ کم از کم اپنے عمل سے بھی ان باتوں کو کر کے دکھا دے جو وہ کتا ہے۔" ( ملفوظات جلد ۲ صفحه ۱۰۴) ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر خدا تعالٰی کے بچے دین کی اشاعت کریں۔اور پھر اس ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچائیں اور اس میں زندگی ختم کر دیں خواہ مارے ہی جائیں " ( ملفوظات جلد سوم صفحه (۳۹)