راہ عمل — Page 6
کہنے کا بھی ڈھنگ آجاتا۔ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ سب سے بہتر نیکی کون سی ہے۔آپ اس کو جواب دیتے ہیں کہ سخاوت۔دوسرا آکر یہی سوال کرتا ہے ، تو اس کو جواب ملتا ہے۔ماں باپ کی خدمت ، تیسرا آتا ہے۔اس کو جواب کچھ اور ملتا ہے سوال ایک ہی ہوتا ہے۔جواب مختلف۔اکثر لوگوں نے یہاں پہنچ کر ٹھوکر کھائی ہے اور عیسائیوں نے بھی ایسی حد شوں پر بڑے بڑے اعتراض کئے ہیں، مگر باحمقوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مفید اور مبارک طرز جواب پر غور نہیں کی۔اس میں سرمی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس قسم کا مریض آتا تھا۔اس کے حسب حال نسور شفا ہلا دیتے تھے۔جس میں مثلاً بجل کی عادت تھی اس کے لئے بہترین نیکی یہ ہی ہو سکتی تھی کہ اس کو ترک کرے۔جو ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا تھا بلکہ ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آنا تھا۔اس کو اسی قسم کی تعلیم کی ضرورت تھی کہ وہ ماں باپ کی خدمت کرے۔" " ( لملفوظات جلد اول صفحه ۳۷۴) مغلوب الغضب غلبہ و نصرت سے محروم ہوتا ہے یاد رکھو جو شخص بھی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آگر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے نگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے" نصیحت کا پیرایہ " جسے نصیحت کرنی ہو اسے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں