راہ عمل — Page 58
۵۹ - ۷۔ایمان لانے سے پہلے لوگوں کی تربیت کا کام شروع ہونا چاہیئے گھروں میں چھوٹی چھوٹی مجلسیں لگیں وہاں اچھی تلاوت سنائی جائے اور پھر اس کے ترجمے ہوں۔قرآن کریم میں ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر محل میں وہ ( انبیاء ) اس بات کا انتظار نہیں کرتے تھے کہ مقابل کی سوسائٹی پہلے ایمان لائے تو پھر ان کے اندر حسن عمل پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔قرآن کریم میں ایسے جتنے بھی واقعات بیان ہوئے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ برائیوں کو دور کرنے کی تعلیم وہ پہلے دیا کرتے تھے۔جو قومیں بھی دائی الی اللہ بننا چاہتی ہیں وہ اپنے معاشرہ کی درستی کا انتظام اس بات کا انتظار کئے بغیر شروع کر دیں کہ وہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں (یہ ساری باتیں وہ ہیں جن کے نتیجہ میں انسان کو دکھ ملتے ہیں)۔دعوت الی اللہ کا پھل فاذ الذی بینک و بینه عداوة کاند ولی حمیم وہ جو پہلے تمہاری جان کا دشمن تھا وہ تمہارا جانثار دوست بن جائے گا اور وہ یہی اعلیٰ مقصود ہے جس کو ایک داعی الی اللہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔یہی اس کی کامیابی کا نشان ہے یا تحفہ ہے جو اسے عطا ہو گا۔نفرتیں محبتوں میں تبدیل کی جائیں گی۔ساتھ ہی ایک کوئی بھی ہے یعنی اگر کسی وعظ کے نتیجے میں یہ واقعات رونما نہیں ہوتے تو اس وعظ میں کوئی خرابی ہے۔دعوت الی اللہ میں صبر کی ضرورت ہے وما يلقها الا الذین صبر و ! بات یہ ہے کہ ہر نصیحت کا راستہ ایک صبر آزما مشکل کا راستہ ہوتا ہے۔جب کوئی شخص کسی کو بلاتا ہے تو اس کے دو طریق ہیں یا تو اس شخص کے ساتھ اس کی دوستی ہے اور یا دشمنی ہے اگر دوستی ہے تو زیادہ نصیحت کرنے کے میں دوستیاں بھی ٹوٹ جایا کرتی ہیں اور دشمنی کا ایک حد تک نتیجہ نکلتا ہے (رسول مریم " کا بہترین نمونہ اس کے لئے آپ کے سامنے ہے ) تو پھر فاذالذی بینک و لند عداوة كانہ ولی حمیم کا کیا مطلب ہے اس مضمون کو صبر نے کھولا ہے فرمایا کہ شروع