راہ عمل

by Other Authors

Page 57 of 89

راہ عمل — Page 57

۵۸ کرتا ہے کہ وہ احسن بن جائیں۔یہاں نیک اعمال بمقابلہ بد اعمال مراد ہیں یہ ایک مقابلہ کی صورت ہے جو یہاں پیش کی گئی ہے۔مثلاً لوگ مال لوٹتے ہیں۔گھر جلاتے ہیں۔طرح طرح کے دکھ دیتے ہیں۔اس کے باوجود اپنے دل کو اس بات پر آمادہ رکھنا اور اس کی ایسی تربیت کرنا کہ خود دشمن جب دکھ میں مبتلا ہو تو اس کی مدد کی جائے۔گویا اعمال کے لحاظ سے یہ ادفع بالتی ھی احسن کی ایک بہترین صورت ہے مثلاً مولانا ظفر علی خان صاحب کی بیماری کے موقع حضرت مصلح موعود نے مری میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو بھیجوایا۔یہ ضروری ہے کہ تم برائی کا بدلہ بہر حال نیکی سے دو گے۔کوئی مصیبت میں مبتلا ہے اس کی مصیبت کو دور کرنے کے لئے تیار ہو گے اور اپنے عمل سے ہرگز یہ ثابت نہیں کرو گے کہ تم بھی بیروں کی طرح برے ہو جاتے ہو۔- تربیت کا یہ طریق ہے کہ بری چیز کے مقابل بہتر چیز پیش کی جائے:۔ا دفع بالتي هھی احسن کا دوسرا پہلو تربیت سے بھی تعلق رکھتا ہے فرمایا جب بھی تمہارے اندر کوئی برائی پیدا ہونے لگے تو اس کو حسن سے دور کرو اور جب بھی معاشرہ میں تربیت کے معاملہ میں کوئی برائی پیدا ہو تو اس کو بھی حسن سے دور کرو۔کیونکہ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ جب کسی کو یہ کہا جائے کہ یہ نہ کرو تو سوال یہ ہے کہ کیوں نہ کرے اس سے بہتر کوئی چیز ملے گی تو نہیں کرے گا ورنہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے گا فطرت چاہتی ہے کہ کوئی اس کا متبادل ہو کوئی اس سے بہتر چیز ہو اس لئے میں نے بارہا یہ کہا ہے کہ آپ جب اپنے گھروں کی اپنے بچوں کی اپنی عورتوں کی تربیت کرتے ہیں تو اس بات کو پیش نظر رکھا کریں کہ اگر ان کو میوزک سے ہٹانا ہے۔یا گندی قسم کے گیتوں سے اور گندے فلمی گانوں سے ہٹانا ہے تو پہلے حضرت مسیح موعود کی نظمیں اچھی آواز میں تیار کریں جو دل پر گہرا اثر کرنے والی ہیں۔-۶- احادیث نبویہ :۔مثلاً احادیث نبویہ ہیں ان میں سے ایسی احادیث منتخب کریں جو غیر معمولی طور پر دل پر اثر کرنے والی ہوں۔وہ احسن کے تابع آئیں گی۔