راہ عمل — Page 59
میں ایسا ہی ہو گا جب تم نیک کاموں کی طرف بلانا شروع کرو گے تو شروع میں قوم کا اس قسم کا رد عمل ہو گا۔تمہاری محبتوں کے نتیجہ میں شدید نفرتیں پیدا ہوں گی لیکن اگر تم متزلزل نہ ہوئے۔۔۔اگر اپنے قول اور فعل کے حسن پر قائم رہے تو پھر اس صبر کے نتیجہ میں اذا الذي والا واقعہ رونما ہو گا اور جب ایسا ہو گا تو تمہیں ایسا لگے گا جیسے اچانک ہو گیا ہے۔اذا الذی اچانک پن کے علاوہ ایک غیر معمولی واقعہ کی تحسین کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کہ دیکھو دیکھو کیسا شاندار نتیجہ نکلنے والا ہے۔دیکھنا کتنا عظیم الشان انقلاب برپا ہو گیا کہ تمہارے خون کے دشمن جانار دوست بن گئے۔صبر کی اقسام : مبر دونوں جگہ ہے یعنی قول میں بھی اور عمل میں بھی جو بات کہنے کی ہے وہ کہتے چلے جانا یہ ہے قول کا صبر اور جو حسن عمل ہے اس سے پیچھے نہیں ہنا آزمائش جتنی بھی سخت ہوتی چلی جائے گی تم نے اپنے اعمال کے حسن کو بدی میں نہیں تبدیل ہونے دینا۔یہ وہ قسم کے صبر تمہیں اختیار کرنے پڑیں گے۔صبر کے نتیجہ میں دعا کی قوت: پس مہر سے جو عظیم الشان قوت پیدا ہوتی ہے وہ دعا کی قوت ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے تم محض اپنی باتوں پر اور اپنے نیک اعمال پر انحصار نہ کرنا جب ان باتوں پر صبر کرو گے پھر بھی تمہیں دکھ دیئے جائیں گے۔اور وہ صبر لازماً دعاؤں میں ڈھلے گا اور دہ دعائیں عظیم الشان نتیجہ پیدا کریں گی (جیسا کہ رسول اللہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں ہوا ) پس تبلیغ کا صبر سے گہرا تعلق ہے اور صبر بھی وہ صبر جو دعا پر منتج ہو جائے دردناک دعاؤں میں تبدیل ہو جائے۔آنحضرت ذو حظ عظیم تھے :۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر تم سیکھنا چاہتے ہو کہ صبر ہوتا کیا ہے تبلیغ کس طرح کی جاتی ہے دعوت الی اللہ کیا ہوتی ہے۔اور بدی کو حسن میں تبدیل کرنے کا مضمون کیا ہے تو خلاصہ کلام یہ ہے کہ ذو حظ عظیم یعنی محمد مصطفی کو دیکھ لو۔وہ صرف صبر میں ذو حظ عظیم نہیں ہیں بلکہ اس مضمون کی ہر شاخ میں فو حظ عظیم ہیں۔