راہ عمل

by Other Authors

Page 42 of 89

راہ عمل — Page 42

۴۳ فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانی عقل کو تیز کیا جائے اور ایک مربی کی ذمہ داری دو طرح سے معقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ایک اس طرح کہ اس کی اپنی عقل اندھیروں میں بھٹکتی نہ پھرے بلکہ روشنی میں چلنے والی ہو اور دوسرے اس طرح کہ اس نے خود اپنی ذات ہی کو منور نہیں کرنا بلکہ اسلام کے نور کو غیر تک بھی پہنچاتا ہے۔اس کے لئے بھی قرآن کریم نے بہت سے انوار ہماری عقل کو عطا کئے ہیں مثلاً قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ہم نے اس کتاب میں آیات کو مختلف طریقوں سے اور پھیر پھیر کے بیان کیا ہے (صر لنا) تا لوگ ہماری آیات کو سمجھیں۔اس میں ہمیں خصوصا ایک مربی کو یہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان ہر دلیل کو سمجھنے کا اہل نہیں ہوتا۔اس کی اپنی انفرادیت ہے۔اپنی ایک دنیا ہے۔اس کے جذبات ہیں۔اس کی عقل ہے۔اس عقل کی تربیت ہے۔اس کا علم ہے۔اس کا ماحول ہے۔اس کی عادتیں ہیں۔اس کا ورثہ ہے اور اس قسم کی بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو اس پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔بعض ولا ئل کو اس کی طبعیت قبول نہیں کرتی لیکن بعض دوسری دلیلوں کو اس کی طبیعت مان لیتی ہے اور ان سے متاثر ہوتی ہے۔غرض قرآن کریم نے جو دلائل کو پھیر پھیر کے بیان کیا ہے وہ اس لئے ہے کہ مربی کو ہر طبیعت کے مطابق دلیل مل جائے اور وہ اس سے فائدہ اٹھائے گویا ایک مربی کا یہ فرض ہوا کہ اول وہ ہر طبیعت کے مطابق بات کر رہا ہو۔نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کی طبیعت دیکھ کر اس سے بات کرنی چاہیے دوسرے یہ کہ وہ قرآن کریم کے اوپر عبور رکھتا ہو۔قرآن کریم نے مختلف طبائع کے لحاظ سے جو ولا کل ایک مربی کے ہاتھ میں دئے ہیں ان کو وہ جانتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ فلاں شخص کی طبیعت ایسی ہے اور اس طبیعت کے لئے فلاں دلیل زیادہ موثر اور زیادہ کارگر ہو سکتی ہے۔۔عشق قرآن پس اگر کسی شخص نے خدا تعالٰی کی نگاہ میں حقیقی مربی بننا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کی روشنی سے اپنے لیے نور فراست اور عقل کی روشنی