راہ عمل

by Other Authors

Page 43 of 89

راہ عمل — Page 43

حاصل کرے اور قرآن کریم سے انتہائی محبت کرے۔وہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا ہو۔قرآن کریم کو خور اور تدبر سے پڑھنے والا ہو۔قرآن کریم سیکھنے کے لئے دعائیں کرنے والا ہو اور قرآن کریم کو سکھانے کے لئے بھی دعائیں کرنے والا ہو تاکہ دنیا اپنی کم عقلی کی وجہ سے اور اپنی اس عقل کے نتیجہ میں جس میں اندھیروں کی آمیزش ہوتی ہے۔خدا تعالی کے غضب کو مول لینے والی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالٰی نے سورۃ یونس میں فرمایا : و يجعل الرجس على الذين لا يعقلون ) آیت نمبر (١٠) یعنی جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اپنی عقل کو اس نور کی روشنی کی تاثیر سے متاثر نہیں کرتے جو قرآن کریم کے ذریعہ نازل کی گئی ہے۔ان پر اللہ تعالی کا غضب نازل ہو جاتا ہے۔غرض ایک مربی نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالی کے غضب سے بچانا ہے اور دنیا کو بھی۔بنی نوع انسان کو بھی اللہ تعالی کے غضب سے بچانا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ وہ اس نور سے وافر حصہ لینے کی کوشش کرے جو قرآن کریم عقل کو دیتا ہے۔اور دعاؤں میں مشغول رہے وہ اللہ تعالی نے ہمیشہ یہ دعا مانگتا رہے کہ اسے بھی اور دنیا کو بھی اپنی کم عقلی اور اندھیروں کے نتیجہ میں اللہ تعالی کا غضب نہ ملے۔بلکہ اللہ تعالی اسے بھی عقل دے اور قرآنی انوار عطاء کرے اور دنیا کو بھی سمجھ دے اور اسے قرآنی انوار دیکھنے کی توفیق عطا رے تاکہ وہ اس کے غضب کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے ہوں۔عربی کا ایک بڑا کام جماعتی اتحاد اور جماعتی بشاشت کو قائم رکھنا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جو نور میں عقل میں پیدا کرتا ہوں اس کے نتیجہ میں قومی یکجہتی قائم رکھی جاسکتی ہے جیسا کہ سورۃ حشر میں فرمایا تحسبهم جميعا و قلوبهم شتى ذالک با نهم قوم لا يعقلون ( آیت : ۱۵ ) یہاں ویسے تو مضمون اور ہے لیکن ایک بنیادی حقیقت بھی بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم انہیں ایک قوم خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ قومی اتحاد اور قوم میں ایک مقصد کے حصول کے لئے بشاشت کا پیدا ہونا اس عقل کے ذریعہ سے ممکن ہے جسے خدا تعالیٰ کے قرآن اور اس احسن الحدیث کی روشنی عطا ہو جو اس نے ہمارے لئے نازل کی ہے اگر عقل کو انوار قرآنی حاصل نہیں تو پھر عقل اس بنیادی مسئلہ کو بھی سمجھنے سے قاصر رہ جاتی ہے کہ حجتی اور اخوت اور اتحاد کے