راہ عمل — Page 29
T۔لئے نہی آئے اور انہوں نے اپنی امتوں میں ایک استعداد پیدا کر دی پھر بتایا کہ اسلام تمام دنیا کے لئے دعوت و وعظ " کرنے والا ہے۔دعوت میں یہ یاد رکھو کہ کبھی کسی شخص کے قول سے گھبراؤ نہیں اور نہ قول پر دارومدار رکھو۔دلیل اور قول میں فرق ہے۔دلیل پر زور دینا چاہئے۔لوگ دلیل کو نہیں سمجھتے۔مسلمان آریوں سے بات کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں۔قرآن میں یوں آتا ہے۔آریوں کے لئے قرآن حجت نہیں۔تم روتیہ دلیل کو پیش کرنے کا اختیار کرو۔تا جماعت احمدیہ میں یہ رنگ آجائے۔ولا ئل سے فیصلہ کرو جو عقلی دلائل بھی ہوں نقلی بھی۔جب بحث کرو تو مد مقابل کی بات کو سمجھو۔کہ وہ کیا کہتا ہے۔مختلف سوالات کر کے پہلے اس کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو اور پھر بات کرو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا سیکھو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا ایسا گر ہے کہ انسان اس کے ذریعے بڑے بڑے محمدے حاصل کرتا ہے۔|* ۱۰ خود کام کرنے اور کام لینے کی طاقت پیدا کرد : ہمیشہ اپنے کاموں میں خود کام کرنے اور اور کام لینے کی طاقت پیدا کرو۔ایسے طریق سے لوگوں سے کام لو کہ وہ اسے بوجھ نہ سمجھیں۔بہت لوگ خود محنتی ہوتے ہیں۔جب تک وہ وہاں رہتے ہیں کام چلتا رہتا ہے لیکن جب وہاں سے ہٹتے ہیں کام بھی بند ہو جاتا ہے۔اللہ تعالٰی کے سلسلے جو ہوتے ہیں جب نبی مرجاتا ہے تو وہ سلسلہ متا نہیں بلکہ اس کے آگے کام کرنے والے پیدا ہو گئے ہوتے ہیں۔یہ اس لئے کہ نبی ایک جماعت کام کرنے والی تیار کر جاتا ہے۔پس تمہارے سپرد بھی یہی کام ہوا ہے۔ایک مشق ہوتی ہے خوب مشق کرو۔لوگوں میں کام کرنے کی روح پھونک دو۔حضرت عمر کے زمانے میں صحابہ میں کام کرنے کی ایک روح پھونکی گئی تھی۔ہر دو مہینے کے بعد کونے کا گورز بدلتا تھا۔حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ۔اگر کوفے والے مجھے روزگور نر بدلنے کے لئے کہیں تو تر میں روز بھی بدل سکتا ہوں۔ایسے رنگ میں کام کرو کہ لوگوں کے اندر ایک روح پھونک دو۔کبھی مت سمجھو کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مانتے نہیں۔عرب کی زمین کتنے شریروں کی تھی پھر کیسے شریفوں کی بن گئی۔یہ بات غلط ہے کہ وہ مانتے نہیں۔تم ایک دفعہ سناؤ دو دفعہ ناؤ آخر مائیں گے۔یہ اس شخص کی اپنی کمزوری ہوتی ہے جو کہتا ہے مانتے نہیں۔