رَدْ تَنَاسُخْ — Page 27
۲۷ ان میں مجھے دکھائی دیتا ہے۔جسے سفلی آتشک پہاڑی روک گرمی - باد مشجرہ مبارک کہتے ہیں۔اہل مصر نے نائیٹریٹ آف سلور کا کیسا خوبصورت نام رکھا ہے۔الجھ الجہنمی ہیں جب کبھی آتشک کے زخموں پر اسکا استعمال کرتا ہوں۔اسوقت اس مصری نام کی خوبی جیسی مجھے معلوم ہوتی ہے۔شائد ایک ناتجربہ کار یا شرایع سے نا واقف کو ہرگز معلوم نہ ہو تی ہو گی۔بستیواں جواب۔ہمنے انا - آرام و تکلیف اعمال کے ثمرات ہیں۔مگر یہ کیوں نہیں کہا جاتا ہے۔کہ وہ اعمال دنیوی اور اسی قسم کے ہیں۔ہاں نمرات کہتے ہیں یہ فائدہ بھی ہے کہ جزا سفراء میں باعث انعام اور موتیبا سزا کا علم اور اس کا یاد ہونا ضرور ہے۔ترات میں علم اور یاد اسباب ضرور ہی نہیں۔غامیشہ ما فی الباب ہمیں وہ اسباب و موجه است یاد نہ ہوں۔سوالیسی یاد داشت تو تاریخ ماننے والوں کے نزدیک بھی غرور نہیں۔رہی، بہر ریاست که بیکه ید جہ میں ایسے کون۔سے کون سے اعمال ہیں۔جن کے باعث بچھو نے سزا بھگتی یا جس کا نمرہ اُٹھایا۔سو اس کے سر دست دو جواب اول۔یہ کہ اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ اعمال ہیں جن کا نمرہ یا جزا لینے ہمیں عامل اور فاعلی یا مرتکب کا عاقل و مابغ اور سمجھ دار ہونا جان بوجھ کر قانون قدرت کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ضرور نہیں۔مثلاً ایک نادان لڑ کا آگ میں رہتے ڈال ہے۔زہریلا دودھ پلایا جا دے۔ایسی خلاف ورزی میں