رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 26

I تیوال جواب۔ہم دیانندی آریہ سے پوچھتے ہیں۔لک کے بزرگ جہاتما نیک خجستہ کردار تھے۔اور ہیں۔یا پانی اور بدکار ؟ اگر نیات اور پہلے تھے۔اور ہیں۔اور برائی ان میں نہیں۔تو چاہے وہ ابدی نجات پا جاویں۔اور آیند آور گوند میں جو جہنم اور سزاء کا گھر ہے۔نہ آویں پھر اور لوگ آپ کو محسن مربی۔اور بزرگ بن جا دیں۔اور وہ بھی اسیطرح نجات پالیں۔یہاں تک که محمد و دانه واح کا سلسلہ آخر محد و زمانه نہیں ختم ہو جا دے۔پھر سر نٹی کے پیدا ہونیکا سامان ہی خدا کے یہاں نہ رہے۔معاذ اللہ۔اور بصورت ثانیہ۔اگر نیک اور پھلے نہیں۔تو ان میں کوئی بھی قابل اعتبار نہ رہے۔اسلاید کار کا اعتبار کیا۔اکتيوال جواب مینے اپنے کانوں بڑے بڑے راجوں مہاراجوں سے سنا اور تقدیر مانے مسئلہ تناسخ کے سچ ہی ہیں۔وہ لوگ کہا کرتے تھے۔تیت در آج۔اور راجوں بزرگ کیا معنی تی یعنے دیا مقتول اور سخت سخت اور مشکل عبادتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ریاضت کننده ریاضت کے بعد راجہ ہو جاتا ہی پھر راج کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ انسان یعنی را بد دوزخی ہو جاتا ہے۔اس کلام کا دوسرا جملہ یعنے راجوں برگ اسلئے بھی یہی ہے۔بیچ کہ راجوں اور مہاراجوں سے اکثر ظلم و تعدی ہو جاتی ہے۔ان سے پورا انصاف محال ہے۔پھر عیاشی اور فضولی وغیرہ وغیرہ آفات میں مبتلا رہتے ہیں۔کچھ بلکہ میرے جیسا تجربہ کار تو شہادت بھی دے سکتا ہے۔که علی العموم کہ دوسرا جملہ سچ ہو۔کیونکہ دوزخ کا نمونہ