رَدْ تَنَاسُخْ — Page 5
لَا تَدْرِكُهُ الاَبْصَـ يُدْرِكُ الاَبْصَارُ وهُو اللطيف الخير ہے۔العلم لَهُمُ مَا بَانَ أَيْل ايل بهم وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يُحيطون شى مِنْ عِلمِهِ الـ الا مَا شَاء اور فرمایا ہے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ LE NOهِمْ وَمَا خَلَفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلَماء چوتھا جواب کسی کا بیمار ہونا اور کسی کا تندرست کسی کا آسودوں کے گھر جنم لینا اور کسی کا مفلسوں کے گھر میں جائز ہے۔اعمال کے سوا کسی اور وجہ سے ہو۔پس بایں احتمال اواگون ماننے والوں کا استدلال صحیح اور نام نہیں۔پس ہم ان کو کہتے ہیں۔کوئی ایسی عقلی دلیل لاؤ جس سے ثابت ہو جاوے۔کہ ایسے نفرقوں کا اعمال کے سوا اور کوئی باعث نہیں۔صرف اعمال ہی اس تفرقہ کا باعث ہیں۔بلکہ یہ تعمیل ارشاد قرآنی جو ذیل میں ہے۔کہتے ہیں۔کوئی علمی دنیل لاؤ۔اٹکلوں اور گمانوں سے کام نہ لو۔کیونکہ سچ ہے جس میں لکھتا ہے۔ہیوو قل هل عِندَكُمْ عِلم مَحْجُوهُ لَنَا اِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا أَنتَ وانا ان الاخر اصُونَ ط پ ک - سوره انعام - رم :- سے اُس کو آنکھ اور اک نہیں کرتی اور وہ آنکہوں کو ادراک کرتا ہے۔اور وہ لطیف و خبیر ہے۔لیے اُن کے آگے اور پیچھے کی سب چیزوں کو جانتا ہے۔اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکے۔مگر جو وہ آپ چاہے۔سے کہ تمہارے پاس کوئی علم ہے۔تو ہمارے پاس نکال لاؤ تیم تو ظن کی پیروی کرتے ہو۔اور اکلیسں دوڑاتے ہو۔