رَدْ تَنَاسُخْ — Page 6
پانچواں جواب۔اگر آکر یہ اسپرانہ ماہ انصاف غور کریں۔تو سی قدر لطیف اور داد کے قابل ہے۔موجودہ اشیاء میں اس تفرقہ سے بڑھ کر ایک بڑا تفرقہ ہم دیکھتے ہیں۔اور اس بڑے تفرقہ کا باعث کی جزا و سزا نہیں۔اور اس امر کو دیانندی آریہ صاحبان آپ تسلیم کرینگے۔سنو - ارواح ایک چین و کنتو - یعنی عالم ہوشیار نیز ہے۔اور پر کرتی بلکہ یہ مانو یعنی اجسام صغیرہ اور نہایت باریک ذرات جن کو عربی علوم طبعیہ کے عالم اجسام ذیمقراطیسی کہتے ہیں۔ایک جڑا ور غیر ذی شعور چیز ہے۔اور باریتعالے عظیم وخبیر - عزیز و غالب القدوس السلام ایک تیسری چیز ہے۔جو ان دونوں اول الذکر ارواح او اجسام بلکہ کال لینے زمانہ پر حکمران ہے۔دیانندی آریہ صاحبان ! بلکہ تمام تناسخ کے ماننے والو ا ان تین اشیاء موجودہ میں اول رو میں بنم سے کیا ازل سے بقول آر یہ اللہ تعالٰی کے ماتحت اور اس کی صفت عدل کے باعث جزا وسترا میں گرفتار ہیں۔اور بقول تناسخ کے ماننے والوں کے بلکہ دیا نندی اللہ کے ہدایاں بادام تک اسی طرح گر فتار رہیں گی۔اگر جہان پر لے کے وقت یا اُسے کسی قدر پہلے اور پیچھے اجسام سے الگ ارواح آرام و راحت میں بھی رہے۔تو اسوقت بھی تم کیطرح بڑائی انہیں بنی رہتی ہے۔جس کے باعث ارواح کو پھر جنم لینا پڑتا ہے۔اور دوم پر مانو بچارے تو ازل سے ابد تک بھی بقول اگر یہ کے محروم ہی نہ ہیں گے۔اور سوم اللہ تعالٰی ازل سے ابد تک ہمیشہ انپر حکمران رہا۔اور ہمیشہ انپر حکمران رہ ہوگا۔اب ہم تناسخ والوں کی دلیل کی طرف توجہ کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں۔ان تین میں بعض اشیاء جہنم سے کیا ہمیشہ سے لنگرٹ۔اور بعض اشیاء تم سے کیا ہمیشہ سے جزاء- اور سزار "