رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 4 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 4

ہیں۔گویا بیوجہ قویہ ایک چیز کو کسی دوسری چیز کا سبب قرار دے ہے۔اور یہ جرات اس قسم کی ہے۔کہ ہم کسی آدمی کو اندھیری رات میں نہیں جاتا دیکھیں۔اور اپنے ہی آپ میں یہ سوچ لیں۔کہ اسوقت کچہریاں بند ہیں۔بازار بند نہیں۔پس جزا سکے کہ یہ آدمی اسوقت صرف چوری کرنے جاتا ہے۔اور کوئی وجہ نہیں۔عقل والے سوچ لیں۔یہ کیسی منطق اور لاجک ہے۔اسی واسطے قرآن کریم نے تناسخ ماننے والوں کی نسبت فرمایا ہے۔اور کہا ہے۔کہ یہ لوگ انکل بازمی ع الد نحيا وما يهلكنا وقالوا ما هى الاخ الا الله وما لهم بل لكَ مِنْ عِلم انهُمُ الأيظنون۔- سوره جائی را : تیسرا جواب۔دنیا میں ہم یہ تفرقہ تو دیکھتے ہیں کہ ایک جسم کا بیجار ہے۔اور دوسرا تندرست۔ایک ٹیم سے دولتمند ہے۔اور دوسراء غریب اور مفلس اور دنیا کا تمام کار خانہ اور اسکا تمام انتظام چونکہ ایک علیم و حکیم کی نہ بر دست طاقت اور صفات کا نتیجہ اور اثر ہے۔پس ہمیں یقین ہے۔کہ یہ تفرقہ ہوجہ دبے حکمت نہ ہو گا۔مگر یہ کیا ضروری ہے۔کہ اس غیر محدود کی گل باریک حکمتیں اور بے تعداد تدبیریں ایسی ہوں۔کہ انسانی محدود عقل اور نجیبہ انپر عادی ہو جا دے؟ یاد رکھو کسی کی بصر اور بصیرہ اسکو احاطہ نہیں کر سکتی۔اور وہ سب پر محیط ہے۔قرآن فرماتا ہے۔نے اور وہ کہتے ہیں۔یہی دنیا کی زندگی ہے۔ہم مرتے ہیں۔اور نہ ندہ ہیں۔اور زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے۔اسبات کا انکو علم نہیں۔یہ انکل لگاتے ہیں۔