رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 18

IA کو صاف جواب ملے گا۔کہ ابدی نجات - سریدی راحت اور دایی آرام و سرور کا سا ان اس ہمہ قدرت ہمہ فضل ہمہ طاقت کے گھر میں موجود نہیں۔ہر گز ایسا نہ ہو گا۔او کم نصیب آریوا ہرگز ایسا نہ ہو گا۔ہاں او تاریخ کے ماننے والو! اس کریم کی بارگاہ سے الیسا روکھا سوکھا جواب ہر گز نہ ملے گا۔بلکہ بات تو یہ ہے۔کہ ہوا کی صفت عدل بھی ہم طالبوں کیا پیار شا فرما ہوئی او عرض کرے گا۔کہ ان غرباء کے فطری اور پہلی تقاضا کو پورا کیجئے اے اللہ الکریم آپ کے دروازہ کو چھوڑ کر کدھر جاویں۔آپ کی سرب شکستیان دانا در بارگاہ میلے سے محروم ہو کہ کہاں سے کامیاب ہوسکتے ہیں۔آپ کی شب و روز کیا ازل سے ابد تک کی تختی ایسی نہیں۔کہ انہیں کو ئی خروج بھی کم کر سکے۔تب ہم کو انشاء اللہ نہائے ابدی آرام نصیب ہو گا۔"" ہاں تاریخ کے قائل ابدی آرام کے منکر : پابندی) آریہ اید می آرام بدانا بادنجات سے محروم رہ جا دیں۔اسلئے کہ ان کی رات اور جہات میں یہ طلب ہی نہیں رہی۔ان کی روح نے بری آرام کا سوال ہی چھوڑ دیا۔اس اعتقاد نے ان کی فطرت کو اگر رہ کر دیا تو ممکن ہے۔ان پہ نہ وہ رحم ہو اور نہ عدل ان کی سپارش کی ہے۔اٹھا نہ ہواں جو اس اس دیانندی آریہ کے نزدیک آرا گوت ہوا ایک تعلیم اور یہی نہیں پھر دن کی اس آزادی کے ہیں روح کم سے الگ رہنے کی ران کوئی است اور تمام انوار ازل سے بد تک ہی کا اتار رہے اد