رَدْ تَنَاسُخْ — Page 17
iz انبیاء علیہم السلام کو لوگوں نے دیکھا۔اُن کے عجائبا ست - مجزایت کو مشاہدہ کیا۔مگر ان کے منکر رہے۔اور باری تعالے کو بن دیکھے یہاں یوں مان لیا۔کہ گویا وہ عیاں ہے۔دلائی ہے یہ اتفاق ہرگز مت سمجھو کیونکہ ہم روزمرہ دیکھ رہے ہیں، مباحث اور دلائل سے متخاصمین میں جھگڑا اور عناد بڑھتا ہے۔نہ اتفاق - بات یہ ہے کہ کبھی کانوں نے اپنے خالق و خاطر کی آواز سنا دی ہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ کیسی کیسی پر تکلیف عبادات کی طرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے پر متوجہ ہیں۔کیا ایسی جان کا ہی اور اسطرح کی محبت بدوں کسی تنبلی دیکھنے کے هارت شنید سے ہے؟ نہیں نہیں۔ایسا ہوتا تو نا دید حیتوں کے حسن کو سر کر لوگ ایسے ہی عشق میں مبتلا ہوتے۔بیلے بنوں کو دیکھ کر جان از عشاق کا مال ہو رہا ہے۔ولی الخیر کالا در اینت ایا کہ سلیم الفطرت ہمارے سید و سوئی کا منغوله على قائلها العملوت والسلام الکل سچ ہے۔اس تحقیق پر یقین وارتی ہے۔ہنے ریب کبھی اس راج کو تجلی الی کی عادت انسان ہو چکی ہے۔گو اس عالم میں نہ ہی۔عالم مثال میں ہیں۔اور گو اسوقت ہمارے جسمانی ذرات تقدر عظیم کیر ہوں میہ اسوقت ہیں، بلکہ انہمت کے وقت نہایت جو اجسام ہوں۔ستر ہوں جواب - ابدی نجات اور مانگی آرام کا حال کرنا تمام مجھے الفطرت اندارج کا تقاضا ہے۔تو کیا یہ فطری خراش پیاس طالب کو محروم رہیگی اور باری تعالے کے کاس رقم کامل قننل والے گھرانے سے پیچھے طالبوں تبلی طلب اوربيه اسب