ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 410
پسند فرمایا۔ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام الله سة آخری خرچ الله حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیہ ہم نے سات دینار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھوائے ہوئے تھے۔آخری بیماری میں فرمایا کہ اے عائشہ ! وہ سونا جو تمہارے پاس تھا کیا ہوا؟ عرض کیا میرے پاس ہے۔فرمایا صدقہ کر دو۔پھر آپ مال لیلی نام پر غشی طاری ہو گئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کی تعلیم کے ساتھ مصروف ہو گئیں۔جب ہوش آئی، پوچھا کہ کیا وہ سونا صدقہ کر دیا؟ عرض کی، ابھی نہیں کیا۔چنانچہ آپ صلی علیم نے وہ دینار منگوا کر ہاتھ پر رکھ کر گئے اور فرمایا محمد کا اپنے ربّ پر کیا تو کل ہوا اگر خدا سے ملاقات اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت یہ دینار اس کے پاس ہوں۔پھر وہ دینار صدقہ کر دیئے اور اسی روز آپ کی وفات ہو گئی۔الله سة (مجمع الزوائد للهيثمي جلد 3صفحہ 124 مطبوعہ بیروت) آخری خرچ آپ نے وہ چھ دینار کئے جو لو گوں میں تقسیم کے بعد بیچ رہے تھے۔آپ کی ایم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا وہ دینار کہاں ہیں جو بچ گئے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میرے پاس محفوظ ہیں آپ کی تعلیم نے فرمایا ان کو خرچ کر دو۔اس بات کے بعد آپ صلی اللہ ہم پر غشی طاری ہو گئی۔کچھ بہتر محسوس فرمایا تو پھر دیناروں کے بارے میں دریافت فرمایا کہ خرچ کردئے گئے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ابھی نہیں۔آپ نے وہ دینار منگوا کر اپنے ہاتھ پر رکھ کر گئے وہ چھ تھے۔آپ صلی لی ایم نے فرمایا محمد کا اپنے رب پر کیا تو کل ہوا اگر وہ اس سے اس حال میں ملے کہ اس کے پاس یہ ہوں' آپ نے وہ سب کسی کو دلوادئے تب آپ مای لیم کو اطمینان ہوا۔( صحيح ابن حبان ذكر من يستحب للمرء و ابن سعد ) رسول الله صلى ال ملک کی آخری بیماری میں کسی بیوی نے حبشہ کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو ماریہ (یعنی حضرت الله سة مریم) کے نام سے موسوم تھا۔آپ صلی علی کرم اپنی بیماری کی تکلیف دہ حالت میں بھی خاموش نہ رہ سکے۔جوش غیرت توحید میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ” برا ہو ان یہودیوں اور عیسائیوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کے مزاروں کو معابد بنالیا۔گویا بالفاظ دیگر اپنی وفات کو قریب جانتے ہوئے آپ صلی میں کم بیویوں 410