ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 387 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 387

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ایک دفعہ لنگر خانے کے انچارج کو تاکید فرمائی: ”دیکھو! بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تواضع کرو۔سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 492 جدید ایڈیشن) اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب کھاریاں روایت کرتی ہیں کہ ”ہمارے ساتھ ایک بوڑھی عورت مائی تابی رہتی تھی اس کے کمرے میں ایک روز بلی پاخانہ کر گئی اس نے کچھ ناراضگی کا اظہار کیا میرے ساتھ دوعورتیں تھیں انہوں نے خیال کیا کہ ہم سے تنگ آکرمائی تابی ایسا کہتی ہے ایک نے تنگ آکر اپنے خاوند کو رقعہ لکھا جو ہمارے ساتھ آیا ہوا تھا کہ مائی تابی ہمیں تنگ کرتی ہے ہمارے لئے الگ مکان کا انتظام کر دیں۔جلال الدین نے وہ رقعہ حضور علیہ السلام کے سامنے پیش کر دیا رقعہ پڑھتے ہی حضور علیہ السلام کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ علیہ السلام نے فورا مائی تابی کو بلایا اور فرمایا تم مہمانوں کو تکلیف دیتی ہوں تمہاری اس حرکت سے مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اس قدر تکلیف کہ اگر خدانخواستہ میرے چاروں بچے مر جاتے تو مجھے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی مہمانوں کو تکلیف دینے سے پہنچی۔(سیرت المہدی حصہ پنجم روایت 1322) ایک دفعہ جب مہمانوں کی زیادتی کی وجہ سے بستر بہت کم ہو گئے تو اپنے گھر میں جو آخری رضائی تھی وہ بھی مہمانوں کو دے دی اور خود ساری رات تکلیف میں گزاری۔کسی مہمان کو چار پائی نہ ملی تو اپنی چارپائی بھیج دی یا فوراً تیار کروا دی اور نیا بستر بنوا کر بھیج دیا سردی کے دنوں میں مہمانوں کے لئے انگیٹھی اور کوئلے بھیجوائے۔قرض لے کر بھی مہمانوں کی خدمت کرتے۔کھانا تناول فرماتے ہوئے بھی اپنا کھانا اٹھا کر مہمانوں کو بھیج دیا اور خود دو گھونٹ پانی پر ہی کفایت فرمائی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ ایک دفعہ لاہور سے قادیان آئے تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ بیٹھئے میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں۔یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔کسی خادم کے ہاتھ کھانا نہیں بھیجا۔چند منٹ کے بعد کھڑ کی کھلی تو حضرت اقدس علیہ السلام اپنے ہاتھ سے سینی اٹھائے ہوئے کھانا لائے اور فرمایا کہ آپ کھانا کھائیے میں پانی لاتا ہوں۔387