ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 388
ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ خاکسار 1907ء میں جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لیے قادیان حاضر ہوا ایک رات میں نے کھانا نہ کھایا تھا اور اس طرح چند اور مہمان بھی تھے جنہوں نے کھانا نہ کھایا تھا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا یا ایها النبی اطعموا الجائع والمعتر منتظمین نے حضور علیہ السلام کے بتلانے پر مہمانوں کو کھانا کھانے کے لیے جگایا خاکسار نے بھی ان مہمانوں کے ساتھ بوقت تقریباً ساڑھے گیارہ بجے لنگر میں جا کر کھانا کھایا۔اگلے روز خاکسار نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن کے قریباً دس بجے مسجد مبارک کے چھوٹے زینے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حضور علیہ السلام کے سامنے حضرت مولوی نورالدین خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور بعض اور اصحاب بھی تھے اس وقت حضور علیہ السلام کو جلال کے ساتھ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انتظام کے نقص کی وجہ سے رات کو کئی مہمان بھوکے رہے اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ الہام کیا یا ایھا النبی اطعموا الجائع والمعتر (سیرت المہدی حصہ چہارم روایت 1176) ایک دفعہ میں بائیں مہمان رات کے ساڑھے گیارہ بجے قادیان پہنچے حضور علیہ السلام نے دریافت کیا کہ لنگر میں کوئی روٹی ہے؟ عرض کیا گیا حضور اڑھائی روٹیاں اور کچھ سالن ہے۔فرمایا وہی لے آؤ۔مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر سفید چادر بچھا کر حضور ایک طرف بیٹھ گئے۔ہم تمام آس پاس بیٹھ گئے۔حضور نے ان روٹیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے مہمانوں کے آگے پھیلا دیئے۔سب نے سیر ہو کر کھایا اور پھر بھی کچھ ٹکڑے بچے ہوئے تھے تو اُسی چادر میں وہ لپیٹ کر لے گئے“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9 صفحہ 15 غیر مطبوع) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمانوں سے بہت شفقت اور مہر بانی فرماتے آپ نے ایک دفعہ نصیحت کے رنگ میں بہت دلچسپ اور سبق آموز قصہ سنایا: ”ایک دفعہ ایک شخص کو جنگل سے گزرتے گزرتے رات پڑ گئی اور وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا سردی کا موسم تھا، نہ کھانے کو کچھ، نہ جسم گرم کرنے کو آگ تھی درخت کے اوپر دو نر اور مادہ پرندوں نے گھونسلہ بنا یا ہوا تھا۔انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ یہ شخص آج ہمار امہمان ہے۔اسے آرام پہنچا نا چاہئے انہوں نے اپنا گھونسلہ نیچے گرا دیا تا کہ وہ آگ جلا سکے۔اسکے بعد انہوں نے سوچا کہ اسے بھوک لگی ہوئی ہو گی تو انہوں نے اپنے آپ کو نیچے گرادیا تا کہ وہ ان دونوں کو بھون کر کھا۔388