ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 386 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 386

جگہ آکر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ کہ یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا۔اُس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے اور یہ ایک پیش گوئی عظیم الشان ہے اور ان لو گوں کی عظمت ظاہر کرتی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے علم میں تھے کہ وہ اپنے گھر وں اور وطنوں اور املاک کو چھوڑیں گے اور میری ہمسائیگی کے لئے قادیان میں بود و باش کریں گے۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد نمبر 15 صفحہ 262 - 263) ابتدا میں مہمان نوازی کا سارا خرچ اور کام آپ علیہ السلام اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کرتے تھے۔مہمانوں میں اضافہ ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے آنے والوں کی مہمان نوازی کے لئے وسائل کی فکر سے بھی مخلصی عطا فرما دی ”ایک دفعہ بہت قحط پڑ گیا اور آٹا روپے کا پانچ سیر ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ کو لنگر کے خرچ کی نسبت فکر پڑی تو آپ کو پھر الہام ہوا۔الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدہ۔اس پر والسلام آپ نے فرمایا کہ آج سے لنگر کا خرچ دو گنا کر دو اور بڑا مرغن شوربہ پکا کرتا تھا۔“ لنگر (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9 صفحه 105 غیر مطبوعہ) خانہ مسیح موعود قادیان سے شروع ہو کر اب دنیا کے کئی یہ وعدہ ان گنت طریق پر پورا ہو رہا ہے۔ملکوں میں پھیل چکا ہے اور اس سے ہزاروں لاکھوں افراد فیضیاب ہورہے ہیں۔لفاظات الموائد كان اكلى احباب جماعت کو نصیحت فرمائی: وصرت اليوم مطعام الاهالى ”میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سب و شتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہئے کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے۔ہمارا کیا حق ہے کہ اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مریدوں سے چاہتے ہیں۔یہ بھی ہم ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے باتیں کریں۔پیغمبر خدا صلی ا ہم نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل ہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں۔چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے جب تک یہ نہ سمجھیں جو کہیں ان کا حق ہے۔“ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 201 - 202، سن اشاعت 2016ء مطبوعہ لندن) 386