ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 346 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 346

فطری و قدرتی دینی رجحان اور تعلیم آپ علیہ السلام کی فطری نیکی کی مثال میں آپ سے منسوب وہ دعا کی درخواست ہے جو نہایت چھوٹی عمر میں اپنی ہم سن لڑکی کو کیا کرتے تھے کہ ” نامرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے“ ”اس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے کہ نہایت پچپن کی عمر سے آپ کے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہو رہا تھا اور ساتھ ہی اس ذہانت کا پتہ چلتا ہے جو بچپن کی عمر سے آپ کے اندر پیدا ہو گئی تھی کیونکہ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ تمام خواہشات کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی سمجھتے تھے اور عبادت کی توفیق کا دینا بھی اسی پر موقوف جانتے تھے۔نماز پڑھنے کی خواہش کرنا اور اس خواہش کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی جاننا اور پھر اس گھر میں پرورش پا کر جس کے چھوٹے بڑے دنیا کو ہی اپنا خدا سمجھ رہے تھے، ایک ایسی بات ہے جو سوائے کسی ایسے دل کے جو دنیا کی ملونی سے ہر طرح پاک ہو اور دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کے لیے خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو، نہیں نکل سکتی۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صفحہ 9) بچے کی تعلیم کا زمانہ آیا تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسیح و مہدی بنانا تھا اس لئے،اگرچہ اس زمانے میں تعلیم عام نہ تھی، آپ کے والد محترم کے دل میں آپ کو تعلیم دلانے کا خاص شوق پیدا کر دیا۔چنانچہ اپنے تفکرات اور اقتصادی مشکلات کے باوجود آپ کی تعلیم میں گہری دلچسپی لی۔امی نبی ہونے کا اعزاز صرف آنحضور صلی الم کے ساتھ خاص ہے باقی انبیاء کو کچھ نہ کچھ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا پڑی۔اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لیے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحوان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو 346