ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 276 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 276

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ کہ لقا یہی ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت اقدس" کے اپنے والد صاحب کے مقدمات وغیرہ کی پیروی کے ذکر میں تحریر فرماتے ہیں: باوجود اس کے کہ آپ دنیا سے ایسے متنفر تھے آپ سست ہر گز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نو کر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پیادہ پا ہیں پچھپیں کوس کا سفر طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے۔بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے تھے اور عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی۔ستر سال سے متجاوز عمر میں جب کہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں، اکثر روزانہ ہوا خوری کے لیے جاتے تھے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اُٹھ کر نماز کا وقت سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ پہلے ہوتا ہے) ئیر کے لیے چل پڑتے تھے اور وڈالہ تک پہنچ کر (جو بٹالہ سڑک پر قادیان سے قریباً ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے صبح کی نماز کا وقت ہوتا تھا۔“ (سیرت مسیح موعود علیه السلام از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صفحہ 16) مرزا دین محمد صاحب سے روایت ہے: ”جن دنوں میری آمد و رفت حضرت صاحب کے پاس ہوئی۔ان ایام میں حضرت صاحب اپنے موروثیوں وغیرہ کے ساتھ مقدمات کی پیروی کے لئے جایا کرتے تھے۔کیونکہ دادا صاحب نے یہ کام آپ کے سپرد کیا ہوا تھا۔تایا صاحب باہر ملازم تھے۔جب حضرت صاحب بٹالہ جاتے مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔جب گھر سے نکلتے تو گھوڑے پر مجھے سوار کر دیتے تھے۔خود آگے آگے پیدل چلے جاتے۔نو کر نے گھوڑا پکڑا ہوا ہوتا تھا۔کبھی آپ بٹالہ کے راستہ والے موڑ پر سوار ہو جاتے اور کبھی نہر پر۔مگر اس وقت مجھے اتارتے نہ تھے۔بلکہ فرماتے تھے کہ تم بیٹھے رہو۔میں آگے سوار ہو جاؤں گا۔اس طرح ہم بٹالہ پہنچتے۔ان ایام میں بٹالہ میں حضرت صاحب کے خاندان کا ایک بڑا مکان تھا۔یہ مکان یہاں محلہ اچھی دروازے میں تھا۔اُس میں آپ ٹھہرتے تھے۔اس مکان میں ایک جولاہا حفاظت کے لئے رکھا ہوا تھا۔مکان کے چوبارہ میں آپ رہتے تھے۔شام کو اپنے کھانے کے لئے مجھے دو پیسے دیدیتے 276