ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 275 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 275

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام پکڑ لیا اور حضور کے ساتھ گر پڑے۔حضور پھر سوار ہوئے اور ابوہریرۃ کو سوار ہونے کی دعوت دی مگر وہ دوسری دفعہ بھی حضور کو لے کر پڑے۔حضور پھر سوار ہوئے اور ابوہریرہ سے پوچھا کیا تمہیں بھی سوار کرلوں تو کہنے لگے اب میں آپ کو تیسری دفعہ نہیں گرانا چاہتا۔المواهب اللدنیہ زرقانی جلد 4 صفحہ 265 دار لمعرفه بیروت ) س حضرت عقبہ بن عامر جہنی ایک مرتبہ سفر میں حضور صلی الی نیلم کی خدمت میں حاضر تھے۔حضور نے اپنی سواری بٹھا دی اور اتر کر فرمایا اب تم سوار ہو جاؤ۔عرض کیا یا رسول الله صل العلیم یہ کیسے ممکن ہے کہ میں آپ کی سواری پر سوار ہو جاؤں اور آپ پیدل چلیں۔حضور صلی نیلم نے پھر وہی ارشاد فرمایا اور غلام کی طرف سے وہی جواب تھا۔حضور صلی نیلم نے پھر اصرار فرمایا تو اطاعت کے خیال سے سواری پر سوار ہو گئے اور حضور صلی الکریم نے سواری کی باگ پکڑ کر اس کو چلانا شروع کر دیا۔(کتاب الولاة کندی بحوالہ سیر الصحابہ جلد 2 صفحہ 216 از شاہ معین الدین احمد ندوی اداره اسلامیات لاہور) اسوہ حسنہ کے یہ واقعات اس زاویہ سے بھی دیکھیں کہ یہ سفر کے ساتھی اپنی خوش قسمتی پر کیسے نازاں اور شکر گزار ہوتے ہوں گے۔کسی کا اخلاق سے دل جیت لینا اسے محبت کا اسیر بنا دیتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ حضرت مسیح موعود اور حسن اخلاق کی باتیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصلی للی مریم کے ہر نقش قدم پر چلنے کی نعمت ملی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ”میں نے خدا کے فضل سے نہ کہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پا یا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے بر گزیدوں کو دی گئی اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولا، فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد ملا ایم کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پا یا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفتِ کاملہ کا حصہ پا سکتا ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 64 - 65) 275