ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 277
تھے۔ان دنوں میں بھٹیاری جھیوری کی دکان سے دو پیسے میں دو روٹی اور دال مل جاتی تھی۔وہ روٹیاں میں لا کر حضرت صاحب کے آگے رکھ دیتا تھا۔آپ ایک روٹی کی چوتھائی یا اس سے کم کھاتے۔باقی مجھے کہتے کہ اس جولا ہے کو بلاؤ۔اسے دیدیتے اور مجھے میرے کھانے لئے چار آنہ دیتے تھے اور سائیس کو دو آنہ دیتے تھے۔اس وقت نرخ گندم کا روپیہ سوا روپیہ فی من تھا۔بعض دفعہ جب تحصیل میں تشریف لے جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔جب تین یا چار بجتے تو تحصیل سے باہر آتے تو مجھے بلا کر ایک روٹی کھانے کے ناشتہ کے لئے دیدیتے اور خود آپ اس وقت کچھ نہ کھاتے۔تحصیل کے سامنے کنوئیں پر وضو کر کے نماز پڑھتے اور پھر تحصیلدار کے پاس چلے جاتے اور جب کچہری برخاست ہو جاتی تو واپس چلے آتے۔جب بٹالہ سے روانہ ہوتے تو پھر بھی مجھے سارا رستہ سوار رکھتے۔خود کبھی سوار ہوتے اور کبھی پیدل چلتے۔پیشاب کی کثرت تھی۔اس لئے گاہے بگاہے ٹھہر کر پیشاب کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ اول روایت نمبر 680) حضرت اقدس مسیح موعود کے ایک اور خادم مرزا اسماعیل بیگ صاحب کی شہادت ہے کہ جب حضرت اقدس اپنے والد بزرگوار کے ارشاد کے ماتحت بعثت سے قبل مقدمہ کی پیروی کے لئے جایا کرتے تھے تو سواری کے لئے گھوڑا بھی ساتھ ہوتا تھا اور میں بھی عموماً ہم رکاب ہوتا تھا لیکن جب آپ چلنے لگتے تو آپ پیدل ہی چلتے اور مجھے گھوڑے پر سوار کرا دیتے۔میں بار بار انکار کرتا اور عرض کرتا حضور مجھے شرم آتی ہے۔آپ فرماتے کہ ہم کو پیدل چلتے شرم نہیں آتی۔تم کو سوار ہو کے کیوں شرم آتی ہے۔(حیات طیبہ صفحہ 15) اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدنا حضرت مسیح موعود کے اخلاق کو بھر پور طریق پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے کیو نکہ حضرت مسیح موعود نے اپنے اخلاق کا جو نمونہ ہمارے لئے چھوڑا ہے اگر ہم ان پر عمل کریں گے تو ہم اپنے اس معاشرے کو جنت نظیر معاشرہ بنا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائے۔(آمین) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے حضرت مسیح موعود کے اخلاق حسنہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا: یں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں۔کہ میں نے آپ سے بہتر ، آپ سے زیادہ خلیق، آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بزرگ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا۔آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دُنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور اسے شاداب کر گئی۔اگر حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی یام کی نسبت یہ بات۔277