ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 274 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 274

قسط 36 حسن اخلاق کی باتیں وہ ہستی جس کے لئے یہ کائنات تخلیق کی گئی ہے۔اس لحاظ سے بھی مثالی ہے کہ اپنے عمل سے احترام انسانیت کا درس دیا آپ اتنے خدا ترس اور مخلوق خدا کی ہمدردی کرنے والے تھے کہ رنگ ونسل ، قوم وقبیلہ مذہب و ملت میں کسی قسم کی تفریق کے بغیر ہر انسان کو انسان سمجھا۔اللہ تعالیٰ نے جو رتبہ بلند آپ کو عطا فرمایا تھا اس نے آپ کو عاجزی اور خاکساری میں بڑھایا، کبھی کوئی امتیاز یا پروٹو کول اپنے لئے پسند نہ فرمایا۔آپ خود کو کسی سے برتر خیال نہیں فرماتے تھے۔آپ کا دستور، منشور اور عمل آپ کے اس قول پر تھا جو آپ نے حجتہ الوداع کے خطبے میں فرمایا تھا کہ سب انسان برابر ہیں ”جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے۔خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔“ آنحضرت صلی الله علم کمزوروں، محروموں، غریبوں، حاجت مندوں، بیماروں کا زیادہ خیال فرماتے۔آج ہم آپ م کے سفر کے ہمراہیوں اور ساتھیوں سے آپ کے حسن اخلاق کی مثالیں پیش کریں گے۔آنحضرت صلی ا لم جب غزوہ بدر کے لئے مدینہ سے نکلے تو سواریاں بہت کم تھیں تین تین آدمیوں کے حصے میں ایک ایک اونٹ آیا۔آنحضرت صلی علم خود بھی اس تقسیم میں شامل تھے اور آپ کے حصہ میں جو اونٹ آیا اس میں آپ کے ساتھ حضرت علیؓ اور حضرت ابولبابہ بھی شریک تھے اور سب باری باری سوار ہوئے۔جب رسول کریم صلی علی نام کے اترنے کی باری آتی تو دونوں جانثار عرض کرتے یا رسول اللہ صلی علیم آپ سوار رہیں ہم پیدل چلیں گے مگر آپ فرماتے تم دونوں مجھ سے زیادہ پیدل چلنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ میں تم دونوں سے زیادہ ثواب سے مستغنی ہوں۔سة الله (مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 411 المكتب الاسلامي للطباعه و النشر بيروت ) حضور صلی ال کی ایک دفعہ سواری پر سوار ہو کر قبا کی طرف جانے لگے۔ابوہریرۃ ساتھ تھے۔حضور نے ان سے فرمایا کیا میں تمہیں بھی سوار کرلوں انہوں نے عرض کیا جیسے حضور کی مرضی تو فرمایا آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ۔حضرت ابوہریرہ نے سوار ہونے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے اور گرتے گرتے حضور کو 274