ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 208 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 208

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ے اللہ ! تو جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ انسانی حد تک جو برابر منصفانہ تقسیم ہو سکتی تھی وہ تو میں کرتا ہوں اور اپنے اختیار سے بری الذمہ ہوں۔میرے مولیٰ اب دل پر تو میرا اختیار نہیں اگر قلبی میلان کسی خوبی اور جوہر قابل کی طرف ہے تو تو مجھے معاف فرمانا‘“ (ابوداؤد کتاب النکاح 39) حضرت اقدس مسیح موعود حضرت نبی کریم صلی ال نیم سراج منیر کا عکس لے کر بدر کامل بن گئے تھے آپ کے بھی اخلاق فطری طور پر اپنے آقا و مطاع کا عکس تھے۔جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خدیجہ حضرت نصرت جہاں بیگم خود سامان کر کے عطا فرمائی تو آپ نے ان کی بہت قدر کی سچے اور حقیقی دوستوں کی طرح حسن سلوک کیا۔آپ نصف بہتر کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کو خدا سے صلح کے برابر سمجھتے فرماتے تھے: چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو“ اللہ پاک نے آپ کو الہام کیا: (ملفوظات جلد 3 صفحہ 300 ایڈیشن 1988ء) خُذُو الرَّفْقَ الرِّفْقَ فَإِنَّ الرِّفْقَ رَأْسُ الْخَيْرَاتِ یعنی نرمی کرو نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا ستر نرمی ہے۔آپ نے نصیحت فرمائی: اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی سے پیش آویں وہ ان کی کنیز کیں نہیں ہیں در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا ایک طرح معاہدہ ہے پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہر و اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِهُ وَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء: (20) یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک سے زندگی کرو اور حدیث میں ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُم لِأَهْلِه یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو۔کیو نکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں 208