ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 209 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 209

جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔“ (ضمیمه تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 75 حاشیہ) آپ کے گھر میں نیک سلوک کے بارے میں حضرت عبدالکریم سیا لکوٹی کا مشاہدہ دیکھئے: حضرت اقدس کی اہلی زندگی میں عرصہ قریب پندرہ برس کے گزرتا ہے حضرت نے بار دیگر خدا تعالیٰ کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اٹھایا ہے۔اس اثنا میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔کوئی بشر خیال کر سکتا ہے ضعیف اور کم علم جنس کی طرف سے اتنے دراز عرصہ میں کوئی ایسی ادا یا حرکت خلاف طبعی سرزد نہ ہوئی ہو گی تجربہ اور عرف عام گواہ ہے کہ خانہ نشین ہم پہلو کج طبعی اور جہالت سے کیسے کیسے رنج وہ امور کے مصدر ہوا کرتے ہیں بایں ہمہ وہ ٹھنڈا دل بہشتی قلب قابل غور ہے جسے اتنی مدت میں کسی قسم کی رنجش اور تنفض عیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھوٹی ہو“ (سیرت حضرت مسیح موعود از عبدالکریم سیالکوٹی صفحہ 16) گڑ کے چاول حضرت اقدس اپنی اہلیہ سے بے حد محبت کرتے اور آپ کی عزت اور قدر کرتے تھے اور انہیں اپنے لئے مبارک وجود سمجھتے تھے حضرت اماں جان کو بھی اس کا احساس تھا بعض دفعہ بڑے ناز سے کہا کرتیں۔”میرے آنے کے ساتھ آپ کی زندگی میں بر کتوں کا دور شروع ہوا ہے“ اس پر حضور مسکرا کر جواب دیتے، ہاں ٹھیک ہے۔حضرت اماں جان بھی حضور سے بہت محبت کرتی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے دو سینوں میں ایک ہی دل دھڑک رہا ہے جس طرح عام میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں ویسے ان دونوں میں کبھی کوئی جھگڑا نہ ہو تا حضور حضرت اماں جان کے ساتھ پیار سے نرم لہجے میں بات کرتے گھر کے کاموں میں کبھی کوئی اونچ بیچ ہو بھی جاتی تو آپ کچھ نہ کہتے۔ایک واقعہ حضرت اماں جان نے خود سنایا بیان کرتی ہیں میں پہلے پہل جب دلی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود گڑ کے میٹھے چاول پسند فرماتے ہیں چنانچہ میں نے بہت شوق اور اہتمام سے میٹھے چاول پکانے کا انتظام کیا۔تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گنا گڑ ڈال دیا۔وہ بالکل راب سی بن گئی جب پتیلی چولہے سے اتاری اور چاول بر تن میں نکالے تو دیکھ کر سخت 209