ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 207
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام آسمان سے آپ کی زوجیت میں دیا ہے پیارے آقا بھی آپ سے بہت محبت کرتے آپ کے حجرے میں نمازیں ادا کرتے یہی وہ لمبے ہاتھوں وال یعنی کثرت سے صدقہ خیرات کرنے والی بیگم تھیں جنہوں نے آنحضور صلی علیم کے بعد سب سے پہلے وفات پائی۔ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ کے آپ سے پیار کی انتہا دیکھئے کہ آپ نے اپنے والد ابو سفیان کا حضرت اقدس کے بستر پر بیٹھنے کا ارادہ دیکھ کر بستر سمیٹ دیا اور کہا ”آپ مشرک ہیں اور یہ حضور صلی ایام کا بستر ہے مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ بستر پر بیٹھیں۔میں کیسے برداشت کر سکتی ہوں کہ خدا کے نبی کے بستر کو آپ ہاتھ لگائیں جب میں آپ سے جدا ہوئی تھی تو میں کافر تھی اب مجھے خدا تعالیٰ نے اسلام دیا ہے مجھے علم ہو گیا ہے کہ رسول کریم صلی علی کریم کی کیا شان ہے اور آپ کی کیا حیثیت ہے“ ام المؤمنین حضرت صفیہ یہود سے تھیں کبھی کبھی دیگر ازواج مطہرات آپ کو یہودیہ کہہ دیتیں۔جو آپ کو اچھا نہ لگتا۔آپ نے کمال حکمت سے انہیں ایسا جواب سکھایا جس سے ان کو بجائے خفت کے اعزاز کا احساس ہوا۔کیسی دلداری ہے فرمایا۔تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ تم دونوں کس طرح مجھ سے زیادہ معزز ہو میں نبیوں کی اولاد ہوں۔میرا باپ ہارون نبی تھا۔میرا چا موسیٰ اور میرا خاوند محمد ہے۔جنگ خیبر سے واپسی پر حضرت صفیہ کو اونٹ پر بیٹھنے کی جگہ پر اپنی عبا اتار کر تہہ کرکے بچھائی پھر انہیں سوار کراتے وقت اپنا گھٹنا جھکا دیا اور فرمایا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہو جاؤ۔(صحیح بخاری کتاب المغازی باب (36) کیا شان ہے حضرت صفیہ کی آپ کے گھٹنے پر سہارا لے کر اونٹ پر سوار ہوتی ہیں۔پھر ایک دن آپ حضرت صفیہ سے دلجوئی کی باتیں کرتے رہے آپ فرماتی ہیں، جب میں رسول کریم صلی یکیم کے پاس سے اٹھی تو آپ کی محبت میرے دل میں ایسی رچ چکی تھی کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی پیارا نہ رہا۔(مجمع الزوائد لهیشی جلد 9 صفحه 15 بحوالہ طبرانی فی الاوسط) ام المؤمنین حضرت میمونہ کو آپ کا ساتھ صرف تین سال میسر رہا ۵۱ ہجری میں وفات پائی۔اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود آپ کی آنحضور ملی ایلیم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ وصیت کی کہ مجھے وہاں دفن کرنا جہاں میں رسول پاک صلی ا ہم سے پہلی دفعہ ملی تھی۔پیار محبت کی اتنی حسین دنیا بسانے والے خدا کے خوف سے لرزاں یہ دعا بھی کرتے: 207