ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 367
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام استثناء حاصل نہیں خواہ وہ افضل الرسل ہو۔خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں۔نمبر :2 مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) (الاحزاب: 41) محمد تمہارے (جیسے) مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور سب نبیوں کا خاتم ہے اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔رسول خداصلی یکم اگر چہ بہترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن قرآن پاک فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی نبی تعلق یا کسی نسلی فضیلت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عظمت کا ایک انقلابی نشان دیا جاتا ہے جو دائمی شان کا حامل ہے جس کی کوئی نظیر نہیں کوئی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تمام نبوتوں اور رسالتوں کی تصدیق کے لئے مہر کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی اور رسول نہیں جو آپ کی تصدیق کے بغیر مانا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی، اتباع، اطاعت اور محبت کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بغیر الہی مکالمہ مخاطبہ کی کثرت کا فیض حاصل کر سکے۔نمبر 3: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَامَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ (٤) (محمد : 3) جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور وہ کلام جو حضرت محمد صلی علی کلم پر نازل ہوا اس پر ایمان لائے اور وہی حق ہے ایسے لوگوں کے خدا گناہ بخش دے گا اور اُن کے دلوں کی اصلاح کرے گا۔”اب دیکھو کہ آنحضرت صلی للی کم پر ایمان لانے کی وجہ سے کس قدر خدا تعالیٰ اپنی خوشنودی ظاہر فرماتا ہے کہ اُن کے گناہ بخشتا ہے اور اُن کے تزکیہ نفس کا خود متکفل ہوتا ہے۔پھر کیسا بد بخت وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ ظلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں اور غرور اور تکبر سے اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے۔" (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 133 367