ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 319
ان پیر شریروں پر پڑے ان کے شرارے نہ ان سے رک سکے مقصد ہمارے حقیقی عشق رسول اور غیرتِ رسول کیا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنے محبوب آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی ایم کی طرح اپنی قوم کی سب و شتم کا سامنا کرنا پڑا ایک لحاظ سے کئی گنا زیادہ شدت اور اذیت برداشت کرنی پڑی کیونکہ دریدہ دہن آنحضور صلی ایم کو بھی اپنی بد فطرت کا نشانہ بناتے تھے۔حکم ربانی یہی تھا کہ برداشت کریں صبر کے ساتھ اور جواب دیں دعاؤں کے ساتھ مگر بعض دفعہ غیرت کا تقاضا تھا کہ شریروں کے شرارے پر الٹانے بھی پڑتے۔اس میں بھی ضبط نفس کے ساتھ اپنے لہی منصب کا لحاظ رکھتے ہوئے مناسب اور مسکت جواب دیتے۔آپ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا عشق تھا اور برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کرے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لو گوں کے اس ہنسی ٹھٹھے نے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسولِ پاک کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتیلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسولِ اکرم پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔پس اے میرے آسمانی آقا! تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلا سے نجات بخش۔“ (ترجمه عربی عبارت از آئینه کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 15 بحوالہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے از سیرت طیبہ صفحہ 41 - 42) حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے لئے بہت حساس تھے فرماتے ہیں : 319