ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 318
آپ کی تربیت اللہ تعالیٰ نے کی تھی ارشاد ہے:۔خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ ) ۲۰۰ یعنی عفو اختیار کر ، معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔(الاعراف: 200) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام: 109) یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیونکہ وہ اس خدا کو جانتے نہیں۔اب دیکھو کہ باوجود یکہ خدا کی تعلیم کی رو سے بت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر خدا مسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بد گوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور ان گالیوں کے تم باعث ٹھہر جاؤ۔“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 460 - 461) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اپنی زبان مبارک کو گالی سے آلودہ نہ فرماتے۔بلکہ دوسروں کو بھی گالی دینے سے منع فرماتے رہے۔آپ صلی لیلی کیم کی تربیت کا انداز بہت پیارا تھا۔۔غصے کے موقع پر بس اتنا فرماتے اس کی پیشانی خاک آلود ہوا سے کیا ہو گیا ہے۔حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی لی لی نے فرمایا کہ اپنے باپوں کو گالیاں مت دو۔تو کسی نے سوال کیا کہ ماں باپ کو کون گالیاں نکالتا ہے۔آپ صلی علیم نے فرمایا جب تم کسی کے باپ کو برا بھلا کہو گے تو وہ تمہارے باپ کو گالی نکالے گا اور یہ اسی طرح ہے جس طرح تم نے خود اپنے باپ کو گالی نکالی۔آپ صلی نیلم اپنے مخالفوں سے انتقام لینے کی بجائے ان کے لئے استغفار فرماتے گالیاں، بدزبانی اور شوخیاں آپ صلی یلم کو جواباً گالی دینے برا بھلا کہنے غصے یا انتقام پر انگیخت نہ کرتیں وہ خلق مجسم ان کے لئے دعا کرتے اور اعراض فرماتے۔خدا تعالیٰ کی بے آواز لاٹھی سے مخالفین خود ہی ذلیل و خوار ہوئے اور تباہ ہوئے۔318