ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 320
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ”جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں، ان سے ہم کیو نکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی اپر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے، ناپاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 459) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تیغ براں تھامی ہوئی تھی۔جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے کی صورت ہوتی سب سے پہلے مؤثر آواز بلند فرماتے۔آپ علیہ السلام نے اپنے عمل سے بھی اور اپنی تحریر و تقریر سے بھی دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی عشق رسول اور غیرت رسول کیا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود سفر میں تھے اور لاہور کے ایک سٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فر مارہے تھے۔اس وقت پنڈت لیکھرام حضور سے ملنے کے لئے آیا اور آکر سلام کیا مگر حضرت صاحب نے کچھ جواب نہیں دیا اس نے اس خیال سے کہ شائد آپ نے سنا نہیں۔دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کیا۔مگر آپ نے پھر بھی توجہ نہیں کی۔اس کے بعد حاضرین میں سے کسی نے کہا۔کہ حضور “ پنڈت لیکھرام نے سلام کیا تھا۔آپ نے فرمایا۔”ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے۔“ 1897ء میں جب پادریوں کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارہ میں انتہائی دریدہ دہنی کی گئی تھی۔آپ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ گورنمنٹ ایسا قانون بنائے کہ جس میں ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور دوسرے فریق پر گند اچھالنے کی اجازت نہ ہو اور یہی طریق کار ہے جس سے امن امان اور بھائی چارہ قائم ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی بہترین طریق نہیں ہے۔استہزاء اور گالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے گالیوں پر آپ کے پر سکون رد عمل کے بارے میں شہادتیں : یک بد زبان مخالف آیا اور اس نے حضرت مسیح موعود کے بالمقابل نہایت دل آزار اور گندے حملے آپ پر 320