ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 311
حضرت أم ناصر صاحبہ نے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام مجھ پر نہایت مہربانی اور شفقت فرمایا کرتے تھے۔مجھے جس چیز کی ضرورت ہوتی حضور سے عرض کرتی حضور اس کو مہیا کر دیتے اور کبھی انکار نہ کرتے۔میرا اور سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا روز مرہ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد ایک دن میں اور ایک دن مبار کہ بیگم حضور کے پاس جاتے اور کہتے کہ حضوڑ بھوک لگی ہے۔حضور کے سرہانے دو لکڑی کے بکس ہوتے تھے۔حضور چابی دے دیتے۔مٹھائی یا بسکٹ جو اس میں ہوتے تھے جس قدر ضرورت ہوتی ہم نکال لیتے، ہم کھانے والی دونوں ہو تیں تھیں مگر ہم تین یا چار یا چھ کے اندازہ کا نکال لیتیں اور حضور کو دکھا دیتیں تو حضور علیہ السلام نے کبھی نہیں کہا کہ زیادہ ہے اتنا کیا کرو گی۔) سیرت المہدی حصہ پنجم صفحہ 253 روایت نمبر 1446) محترمه حسو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیمی نے بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ آیا تھا مبار کہ بیگم اندر سوئی ہوئی تھیں میں جلدی سے اندر گئی اور بی بی کو اٹھا لائی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ لڑکی بڑی ہشیار ہے۔یہ جو بھاری کام کیا کرے گی اس میں برکت ہو گی اور اس کو تھکن نہیں ہو گی۔“ حضور علیہ السلام کی برکت سے میں بھاری بھاری کام کرتی ہوں مگر تھکتی نہیں۔(سیرت المہدی حصہ پنجم صفحہ 288 روایت نمبر 1518) میری لختِ جگر مبار کہ بیگم حضرت نواب محمد علی خان کی طرف سے رشتے کی تحریک کے جواب میں حضرت اقدس نے جو مکتوب تحریر فرمایا اس سے بیٹی کا پیار اور قدردانی خوب مترشح ہے: میری لختِ جگر مبار کہ بیگم کی نسبت جو آپ کی طرف سے تحریک ہوئی تھی میں بہت دنوں تک اس معاملہ میں سوچتا رہا آج جو کچھ خدا نے میرے دل میں ڈالا ہے اس شرط کے ساتھ اس رشتے میں مجھے عذر نہیں ہو گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کو بھی اس میں تامل نہیں ہو گا اور وہ یہ کہ مہر میں آپ کی دوسال کی آمدن جا گیر مورر کی جائے یعنی پچاس ہزار روپیہ اور اس اقرار کے بارے میں ایک دستاویز شرعی تحریری آپ کی طرف سے حاصل ہو۔۔۔” مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 319) وو بیٹی کا مہر نامہ تحریر کروا کے رجسٹر کروایا۔حضرت صاحب نے مہر نامہ کو باقاعدہ رجسٹری کروا کے اس پر بہت سے لوگوں کی شہادتیں ثبت کروائی تھیں۔۔در اصل مہر کی تعداد زیادہ تر خاوند کی موجودہ حیثیت 311