ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 312 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 312

اور کسی قدر بیوی کی حیثیت پر مقرر ہوا کرتی ہے اور مہر نامہ کا باقاعدہ لکھا جانا اور رجسٹری ہونا یہ شخصی حالات پر موقوف ہے۔چونکہ نواب محمد علی خان صاحب کی جائیداد سر کار انگریزی کے علاقہ میں واقع نہ تھی بلکہ ایک ریاست میں تھی اور اس کے متعلق بعض تنازعات کے پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا تھا اس لئے حضرت صاحب نے مہر نامہ کو باقاعدہ رجسٹری کروانا ضروری خیال کیا اور ویسے بھی دیکھا جاوے تو عام حالات میں یہی بہتر ہوتا ہے کہ مہر نامہ اگر رجسٹری نہ بھی ہو تو کم از کم باقاعدہ طور پر تحریر میں آجاوے اور معتبر لوگوں کی شہادتیں اس پر ثبت ہو جاویں۔کیونکہ در اصل مہر بھی ایک قرضہ ہوتا ہے جس کی ادائیگی خاوند پر فرض ہوتی ہے۔پس دوسرے قرضہ جات کی طرح اس کے لئے بھی عام حالات میں یہی مناسب ہے کہ وہ ضبط تحریر میں آجاوے۔(سیرت المہدی حصہ پنجم صفحہ 253 روایت نمبر 369) جس پر تم ہاتھ رکھ دو ایک روز حضرت اماں جان نے کسی کپڑے والے کو بلوایا تھا اور میرے جہیز کے لئے کچھ کپڑا خرید رہی تھیں حضرت مسیح موعود میرے نزدیک آئے اور کہا ”تمہاری اماں تمہارے لئے ریشم وغیرہ لے رہی ہیں ہمیں تو بنارسی کپڑا پسند ہے یہ تھان بنارسی جو رکھے ہیں جس پر تم ہاتھ رکھ دو وہ اپنے پاس سے خود تم کو لے دوں گا“ (روایت نمبر 1446) حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام در پیش ہے دُعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔مبار کہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابو بکر ہوں۔دوسرے دن صبح مبار کہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے؟ مبار کہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔یہ خواب اپنی اماں کو نہ منانا۔312