ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 310 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 310

حضرت سیدہ چھوٹی آپا فرماتی ہیں درج ذیل واقعہ حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ سے بار ہا سنا ہے اور ہر بار سن کر دل ایک نئی کیفیت سے دو چار ہو تا رہا ہے۔آپ نے فرمایا: قادیان میں اس زمانہ میں ڈبل روٹی کہاں تھی؟ دودھ اور ساتھ مٹھائی یا پراٹھا ہم لو گوں کو ناشتہ ملتا تھا۔چائے کا بھی باقاعدگی سے کوئی رواج نہ تھا۔ڈبل روٹی کبھی تحفہ لا ہو ر سے آجاتی تھی۔ایک روز کا واقعہ ہے صبح کا وقت تھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر مردوں کے ہمراہ سیر کو تشریف لے گئے تھے۔اصغری کی اماں جنہوں نے گیارہ سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کھانا پکانے کی خد مت بہت اخلاص سے کی، کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں اور حضرت اماں جان بھی ان کے پاس باورچی خانہ میں جو اس وقت ہمارے صحن کا ایک کو نہ تھا کوئی خاص چیز پکا نایا پکوا نا چاہتی تھیں۔اصغری کی اماں نے دودھ کا پیالہ اور دو توس کشتی میں لگا کر دیے کہ ”لو بیوی ناشتہ کر لو“ میں نے کہا مجھے تو س تل کر دو۔مجھے تلے ہوئے تو س پسند تھے۔انہوں نے اپنے خاص منت در آمد والے لہجے میں کام کا عذر کیا اور حضرت اماں جان نے بھی فر ما یا اس وقت اور بہت کام ہیں اس وقت اسی طرح کھا لو۔تل کر پھر سہی۔میں سن کر چپکی چلی آئی اور اس کمرہ میں، جو اب حضرت اماں جان کا کمرہ کہلا تا ہے، کھڑ کی کے رخ میں ہی کیا دیکھتی ہوں پیارے مقدس ہا تھوں میں سٹول اٹھائے ہو (اب وہ کھڑ کی بند ہو چکی ہے اور و ہاں غسل خانہ بن گیا ہے) ایک پلنگ بچھا تھا اس پر پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئی۔دل میں یقین تھا کہ دیکھو میرے لبا آتے ہیں اور ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔دیکھوں کیسے نہیں تلے جاتے میرے تو س۔جلد ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر سے تشریف لے آئے۔کمرہ میں داخل ہوئے۔صرف میری پشت دیکھ کر روٹھنے کا اندازہ کر لیا اور اسی طرح خاموش واپس صحن میں تشریف لے گئے۔باہر جا کر پو چھا ہو گا اور جواب سے تفصیل معلوم ہوئی ہو گی۔میں تھوڑی دیر ئے آئے اور میرے سامنے لا کر رکھ دیا۔پھر باہر گئے اور خو دہی دونوں ہاتھوں میں کشتی اٹھا کر لائے اور سٹول پر میرے آگے رکھ دی جس میں میرے حسب منشا تلے ہوئے توس اور ایک کپ دودھ کا رکھا تھا اور فرمایا ”لو اب کھاؤ۔“ میں ایسی بد تمیز نہ تھی کہ اس کے بعد بھی منہ پھولا رہتا، میں نے فوڑا کھانا شروع کر دیا۔آج تک جب بھی یہ واقعہ ، وہ خاموشی سے سٹول سامنے رکھ کر اس پر کشتی لا کر رکھنا یاد آتا ہے اور اپنی حیثیت پر نظر جاتی ہے تو آنسو بہہ نکلتے ہیں۔بڑے ہو کر ٹیسٹ (taste) بدل جاتے ہیں۔مگر اس یاد میں، اب تک میں، بہت چاہت سے تلے ہوئے توس کبھی کبھی ضرور کھاتی ہوں۔(سیرت و سوانح سیده نواب مبار که بیگم مصنفه و مرتبه پروفیسر سیدہ نسیم سعید صفحه 70) 310